مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 203 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 203

ظاہر کرنا اپنا شیوہ کر لیوے۔میں ایسے لوگوں کو محض لِلّٰہ متنبہ کرتا ہوں کہ وہ ایسے خیالات کو دل میں جگہ دینے سے حق اور حق بینی سے بہت دور جاپڑے ہیں۔اگران کایہ قول سچ ہو کہ الہامات و مکاشفات کوئی ایسی عمدہ چیز نہیں ہے جو خاص اور عوام یا کافر اور مومن میں کوئی امتیاز بیّن پیدا کرسکیں توسالکوں کے لئے یہ نہایت دل توڑنے والا واقعہ ہوگا۔میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ یہی ایک روحانی اور اعلیٰ درجہ کی اسلام میں خاصیت ہے کہ سچائی سے اس پر قدم مارنے والے مکالمات خاصہ الٰہیہ سے مشرف ہوجاتے ہیں اور قبولیت کے انوار جن میں ان کا غیر ان کے ساتھ شریک نہیں ہوسکتا ان کے وجود میں پیدا ہوجاتے ہیں یہ ایک واقعی صداقت ہے جو بے شمار راست بازوں پر اپنے ذاتی تجارب سے کھل گئی ہے ان مدارج عالیہ پر وہ لوگ پہنچتے ہیں کہ جو سچی اور حقیقی پیروی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کرتے ہیں اور نفسانی وجود سے نکل کر ربّانی وجود کا پیراہن لیتے ہیں یعنی نفسانی جذبات پر موت وارد کرکے ربّانی طاعات کی نئی زندگی اپنے اندر حاصل کرتے ہیں ناقص الحالت مسلمانوں کو ان سے کچھ نسبت نہیں ہوتی پھر کافر اور فاسق کو ان سے کیا نسبت ہو؟ ان کی یہ کاملیت اُن کی صحبت میں رہنے سے طالب حق پر کھلتی ہے اسی غرض سے میں نے اتمام حجت کے لئے مختلف فرقوں کے سرگروہوں کی طرف اشتہارات بھیجے تھے اور خط لکھے تھے کہ وہ میرے اس دعویٰ کی آزمائش کریں اگر ان کو سچائی کی طلب ہوتی تو وہ صدق قدم سے حاضر ہوتے سو اُن میں سے کوئی ایک بھی بصدق قدم حاضر نہ ہوا بلکہ جب کوئی پیشگوئی ظہور میں آتی رہی اُس پر خاک ڈالنے کے لئے کوشش کرتے رہے اب اگر ہمارے علماء کو اس حقیقت کے قبول کرنے اور ماننے میں کچھ تامل ہے تو غیروں کے بُلانے کی کیا ضرورت؟ پہلے یہی ہمارے احباب جن میں سے بعض فاضل اور عالم بھی ہیں۔آزمائش کرلیں اور صدق اور صبر سے کُچھ مُدّت میری صحبت میں رہ کر حقیقت حال سے واقف ہوجائیں پھر اگر یہ دعویٰ اس عاجز کا راستی سے معرا نکلے تو انہیں کے ہاتھ پر میں توبہ کروں گا ورنہ امید رکھتا ہوں کہ خدائے تعالیٰ اُن کے دلوں پر توبہ اور رجوع کا دروازہ کھول دے گا اور اگر وہ میری اس تحریر کے شائع ہونے کے بعد میرے دعاوی کی