مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 202 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 202

نہیں ہوسکتی تھی کیونکہ اجتہادی غلطی ایک ایسا امر ہے جس سے انبیاء بھی باہر نہیں ماسوائے اس کے یہ عاجز اب تک قریب سات ہزار مکاشفات صادقہ اور الہامات صحیحہ سے خدا تعالیٰ کی طرف سے مشرف ہوا ہے اور آئندہ عجائبات روحانیہ کا ایسا بے انتہا سلسلہ جاری ہے کہ جو بارش کی طرح شب و روز نازل ہوتے رہتے ہیں۔پس اس صورت میں خوش قسمت انسان وہ ہے کہ جو اپنے تئیں بصدق و صفا اِس ربّانی کارخانے کے حوالہ کرکے آسمانی فیوض سے اپنے نفس کو متمتع کرے اور نہایت بدقسمت وہ شخص ہے کہ جو اپنے تئیں ان انوار و برکات کے حصول سے لاپروا رکھ کر بے بنیاد نکتہ چینیاں اور جاہلانہ رائے بقیہ حاشیہ۔ہم یہی کہتے ہیں اور فطرتی استعدادوں کا مختلف طور پر بچوں میں پایا جانا عام اس سے کہ وہ صغر سنی میں مر جاویں یا زندہ رہیں ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر تمام مذاہب کا اتفاق ہے اور کوئی حکماء اور علماء میں سے اس کا منکر نہیں ہوسکتا۔پس دانا کے لئے کون سی ٹھوکر کھانے کی وجہ ہے؟ ہاں نادان اور احمق لوگ ہمیشہ سے ٹھوکر کھاتے چلے آئے ہیں۔بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیشگوئی پر ٹھوکر کھائی کہ یہ شخص تو کہتا تھا کہ فرعون پر عذاب نازل ہوگا سو اس پر تو کچھ عذاب نازل نہ ہوا۔وہ عذاب تو ہم پر ہی پڑا کہ اس سے پہلے صرف آدھا دن ہم سے مشقت لی جاتی تھی اور اب سارا دن محنت کرنے کا حکم ہوگیا۔خوب نجات ہوئی۔حالانکہ یہ دوہری محنت اور مشقت ابتلاء کے طور پر یہودیوں پر ابتداء میں نازل ہوئی تھی اور انجام کار فرعون کی ہلاکت مقدر تھی۔مگر ان بیوقوفوں اور شتابکاروں نے ہاتھ پر سرسوں جمتی نہ دیکھ کر اسی وقت حضرت موسیٰ کو جھٹلانا شروع کردیا اور بدظنی میں پڑگئے اور کہا کہ اے موسیٰ و ہارون جو کچھ تم نے ہم سے کیا خدا تم سے کرے۔پھر یہودا اسکریوتی کی نادانی اور شتابکاری دیکھنی چاہیے کہ اس نے حضرت مسیح علیہ السلام کی پیشگوئیو ں کے سمجھنے میں نہایت سخت ٹھوکر کھائی اور خیال کیا کہ یہ شخص بادشاہ ہو جانے کا دعویٰ کرتا تھا اور ہمیں بڑے بڑے مراتب تک پہنچاتا تھا۔مگر یہ ساری باتیں جھوٹ نکلیں اور کوئی پیشگوئی اس کی سچی نہ ہوئی بلکہ فقرو فاقہ میں ہم لوگ مر رہے ہیں۔بہتر ہے کہ اس کے دشمنوں سے مل کر پیٹ بھریں۔سو اس کی جہالت اس کی ہلاکت کا موجب ہوئی۔حضرت مسیح علیہ السلام کی پیشگوئیاں اپنے وقتوں میں پوری ہوگئیں۔سونبیوں کا ان نادان مکذبین کی تکذیب سے کیا نقصان ہوا جس کا اب بھی اندیشہ کیا جائے اور اس اندیشہ سے خدائے تعالیٰ کی پاک کارروائی کو بند کیا جائے۔یقینا سمجھنا چاہیے کہ جو لوگ مسلمان کہلا کر اور کلمہ گو ہوکر جلدی سے اپنے دل میں وساوس کا ذخیرہ اکٹھا کر لیتے ہیں وہ انجام کار اسی طرح رسوا اور ذلیل ہونے والے ہیں جس طرح نالائق اور کج فہم یہودی اور یہودا اسکریوتی رسوا اور ذلیل ہوئے۔فَتَدَبَّرُوْا یَا اُولِی الْاَلْـبَابِ۔منہ