مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 200
ان کے روحانی اعضاء جو روحانی قوّتوں سے مراد ہیں بباعث غلو محبت دنیا کے گلنے سڑنے شروع ہوگئے ہیں اور اُن کا شیوہ فقط ہنسی اور ٹھٹھا اور بدظنّی اور بدگمانی ہے دینی معارف اور حقائق پر غور کرنے سے بکلّی آزادی ہے بلکہ یہ لوگ حقیقت اور معرفت سے کچھ سروکار نہیں رکھتے اور کبھی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتے کہ ہم دُنیا میں کیوں آئے اور ہمارا اصلی کمال کیا ہے بلکہ جیفہ دُنیا میں دن رات غرق ہورہے ہیں ان میں یہ حس ہی باقی نہیں رہی کہ اپنی حالت کو ٹٹولیں کہ وہ کیسی سچائی کے طریق سے گری ہوئی ہے اور بڑی بدقسمتی ان کی یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی اس نہایت خطرناک بیماری کو پوری پوری صحت خیال کرتے ہیں اور جو حقیقی صحت و تندرستی ہے اس کو بہ نظر توہین و استخفاف دیکھتے ہیں اور کمالات ولایت اور قربِ الٰہی کی عظمت بالکل ان کے دلوں پر سے اُٹھ گئی ہے اور نومیدی اور حرمان کی سی صورت پیدا ہوگئی ہے بلکہ اگر یہی حالت رہی تو ان کا نبوّت پر ایمان قائم رہنا بھی کچھ معرض خطر میں ہی نظر آتا ہے۔یہ خوفناک اور گری ہوئی حالت جو میں نے بعض علماء کی بیان کی ہے اس کی یہ وجہ نہیں ہے کہ وہ ان روحانی روشنیوں کو تجربہ کے رو سے غیر ممکن یا شکّی وظنّی خیال کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے ہنوز بالاستیفا تجربہ کرنے کی طرف توجہ نہیں کی اور کامل اور محیط طور پر نظر ڈال کر رائے ظاہر کرنے کا ابھی تک انہوں نے اپنے لئے کوئی موقعہ پیدا نہیں کیا اور نہ پیدا کرنے کی کچھ پرواہ ہے صرف ان مفسدانہ نکتہ چینیوں کو دیکھ کر کہ جو مخالفین تعصّب آئین نے اس عاجز کی دو پیشگوئیوں پر کی ہیں ۱؎ بلاتحقیق و تفتیش ۱؎ حاشیہ۔وہ نکتہ چینیاں یہ ہیں کہ۸؍اپریل ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں اس عاجز نے ایک پیشگوئی شائع کی تھی کہ ایک لڑکا اس عاجز کے گھر میں پیدا ہونے والا ہے اور اشتہار مذکور میں بہ تصریح لکھ دیا تھا کہ شاید اسی دفعہ وہ لڑکا پیدا ہو یا اس کے بعد قریب حمل میں پیدا ہو۔سو خدا تعالیٰ نے مخالفین کا خبث باطنی اور ناانصافی ظاہر کرنے کے لئے اس دفعہ یعنی پہلے حمل میں لڑکی پیدا کی اور اس کے بعد جو حمل ہوا تو اس سے لڑکا پیدا ہوا اور پیشگوئی اپنے مفہوم کے مطابق سچی نکلی اور ٹھیک ٹھیک وقوع میں آگئی۔مگر مخالفین نے جیسا کہ ان کا قدیمی شیوہ ہے محض شرارت کی راہ سے یہ نکتہ چینی کی کہ پہلی دفعہ ہی کیوں لڑکا پیدا نہیں ہوا۔ان کو جواب دیا گیا کہ اشتہار میں پہلی دفعہ کی کوئی شرط نہیں بلکہ دوسرے حمل تک پیدا ہونے کی شرط تھی جو وقوع میں آگئی اور پیشگوئی نہایت صفائی سے پوری ہوگئی۔سو ایسی پیشگوئی پر نکتہ چینی کرنا بے ایمانی کی قسموں میں سے ایک قسم ہے کوئی منصف اس کو واقعی طور پر نکتہ چینی نہیں کہہ سکتا دوسری نکتہ چینی مخالفوں کی یہ