مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 198
اور بَرق۔اسی ترتیب کے رو سے اس پیشگوئی کا پورا ہونا شروع ہوا یعنی پہلے بشیر کی موت کی وجہ سے ابتلا کی ظلمت وارد ہوئی اور پھر اس کے بعد رَعد اور روشنی ظاہر ہونے والی ہے اور جس طرح ظلمت ظہور میں آگئی اسی طرح یقیناً جاننا چاہیئے کہ کسی دن و ہ رَعد اور روشنی بھی ظہور میں آجائے گی جس کا وعدہ دیا گیا ہے۔جب وہ روشنی آئے گی تو ظلمت کے خیالات کو بالکل سینوں اور دلوں سے مٹا دے گی اور جو جو اعتراضات غافلوں اور مردہ دلوں کے منہ سے نکلے ہیں اُن کو نابود اور ناپدید کردے گی یہ الہام جو ابھی ہم نے لکھا ہے ابتدا سے صدہا لوگوں کو بہ تفصیل سنا دیا گیا تھا چنانچہ منجملہ سامعین کے مولوی ابوسعید محمد حسین بٹالوی بھی ہیں اور کئی اور جلیل القدر آدمی بھی۔اب اگر ہمارے موافقین و مخالفین اسی الہام کے مضمون پر غور کریں اور دقتِ نظر سے دیکھیں تو یہی ظاہر کررہا ہے کہ اِس ظلمت کے آنے کا پہلے سے جناب الٰہی میں ارادہ ہوچُکا تھا جو بذریعہ الہام بتلایا گیا اور صاف ظاہر کیا گیا کہ ظلمت اور روشنی دونوں اِس لڑکے کے قدموں کے نیچے ہیں یعنی اس کے قدم اُٹھانے کے بعد جو موت سے مراد ہے اُن کا آنا ضرور ہے سو اے وے لوگو! جنہوں نے ظلمت کو دیکھ لیا حیرانی میں مت پڑو بلکہ خوش ہو بقیہ حاشیہ۔گیا اور اندر ہی اندر بہت سی برکتیں ان کو پہنچا گیا اور یہ بات کھلی کھلی الہام الٰہی نے ظاہر کردی کہ بشیر جو فوت ہوگیا ہے وہ بے فائدہ نہیں آیا تھا بلکہ اس کی موت ان سب لوگوں کی زندگی کا موجب ہوگی جنہوں نے محض لِلّٰہ اس کی موت سے غم کیا اور اس ابتلاء کی برداشت کر گئے کہ جو اس کی موت سے ظہور میں آیا غرض بشیر ہزاروں صابرین و صادقین کے لیے ایک شفیع کی طرح پیدا ہوا تھا اور اس پاک آنے والے اور پاک جانے والے کی موت ان سب مومنوں کے گناہوں کا کفارہ ہوگی اور دوسری قسم رحمت کی جو ابھی ہم نے بیان کی ہے۔اس کی تکمیل کے لیے خدا تعالیٰ دوسرا بشیر بھیجے گا جیسا کہ بشیر اوّل کی موت سے پہلے ۱۰؍ جولائی ۱۸۸۸ء کے اشتہار میں اس کے بارے میں پیشگوئی کی گئی ہے اور خدا تعالیٰ نے اس عاجز پر ظاہر کیا کہ ایک دوسرا بشیر تمہیں دیا جائے گا۔جس کا نام محمود بھی ہے وہ اپنے کاموں میں اولو العزم ہوگا یَخْلُقُ اللّٰہُ مَا یَشَآئُ اور خدا تعالیٰ نے مجھ پر یہ بھی ظاہر کیا کہ ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء کی پیشگوئی حقیقت میں دو سعید لڑکوں کے پیدا ہونے پر مشتمل تھی اور اس عبارت تک کہ مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے۔پہلے بشیر کی نسبت پیشگوئی ہے کہ جو روحانی طور پر نزولرحمت کا موجب ہوا اور اس کے بعد کی عبارت دوسرے بشیر کی نسبت ہے۔منہ