مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 197
۱؎ اور اب فوت ہوجاوے گا بلکہ جو الہامات اُس پسر متوفی کی پیدائش کے دن میں ہوئے تھے ان سے بھی اجمالی طور پر اُس کی وفات کی نسبت بو آتی تھی اور مترشح ہوتا تھا کہ وہ خلق اللہ کے لئے ایک ابتلاء عظیم کا موجب ہوگا جیسا کہ یہ الہام اِنَّا اَرْسَلْنَاہُ شَاھِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا کَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَائِ فِیْہِ ظُلُمَاتٌ وَّ رَعْدٌ وَّ َبرْقٌ کُلُّ شَیْئٍ تَحْتَ قَدَمَیْہِ یعنی ہم نے اس بچہ کو شاہد اور مبشر اور نذیر ہونے کی حالت میں بھیجا ہے اور یہ اس بڑے مینہ کی مانند ہے جس میں طرح طرح کی تاریکیاں ہوں اور رَعد اور بَرق بھی ہو یہ سب چیزیں اس کے دونوں قدموں کے نیچے ہیں یعنی اُس کے قدم اُٹھانے کے بعد جو اس کی موت سے مراد ہے ظہور میں آجائیں گی۔سو تاریکیوں سے مراد آزمائش اور ابتلاء کی تاریکیاں تھیں جو لوگوں کو اس کی موت سے پیش آئیں اور ایسے سخت ابتلاء میںپڑگئے جو ظلمات کی طرح تھا اور آیت کریمہ ۲؎ کے مصداق ہوگئے اور الہامی عبارت میں جیسا کہ ظلمت کے بعد رَعد اور روشنی کا ذکر ہے یعنی جیسا کہ اس عبارت کی ترتیب بیانی سے ظاہر ہوتا ہے کہ پسر متوفی کے قدم اٹھانے کے بعد پہلی ظلمت آئے گی اور پھر رَعد ۱؎ حاشیہ۔خدا تعالیٰ کی انزال رحمت اور روحانی برکت کے بخشنے کے لئے بڑے عظیم الشان دو طریقے ہیں۔(۱) اوّل یہ کہ کوئی مصیبت اور غم و اندوہ نازل کر کے صبر کرنے والوں پر بخشش اور رحمت کے دروازے کھولے جیسا کہ اس نے خود فرمایا ہے (البقرۃ:۱۵۶تا۱۵۸)یعنی ہمارا یہی قانون قدرت ہے کہ ہم مومنوں پر طرح طرح کی مصیبتیں ڈالا کرتے ہیں اور صبر کرنے والوں پر ہماری رحمت نازل ہوتی ہے اور کامیابی کی راہیں انہیں پر کھولی جاتی ہیں جو صبر کرتے ہیں۔(۲) دوسرا طریق انزالِ رحمت کا ارسال مرسلین و نبیین و آئمہ و اولیاء و خلفاء ہے تا ان کی اقتداء و ہدایت سے لوگ راہ راست پر آجائیں اور ان کے نمونہ پر اپنے تئیں بنا کر نجات پا جائیں۔سو خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اس عاجز کی اولاد کے ذریعہ سے یہ دونوں شق ظہور میں آجائیں، پس اوّل اس نے قسم اوّل کے انزال رحمت کے لئے بشیر کو بھیجا تا بَشِّرِ الصَّابِرِیْنَ کا سامان مومنوں کے لئے طیار کرکے اپنی بشیریت کا مفہوم پورا کرے۔سو وہ ہزاروں مومنوں کے لیے جو اس کی موت کے غم میں محض ِللہ شریک ہوئے بطور فرط کے ہوکر خدا تعالیٰ کی طرف سے اُن کا شفیع ٹھہر ۲؎ البقرۃ:۲