مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 196
نہیں کرتا کہ اس کو نابود کردیوے بلکہ اِس غرض سے کرتا ہے کہ تا وہ پودا پھول اور پھل زیادہ لاوے اور اُس کے برگ و بار میں برکت ہو۔پس خلاصہ کلام یہ کہ انبیاء اور اولیاء کی تربیت باطنی اور تکمیل روحانی کے لئے ابتلاء کا ان پر وارد ہونا ضروریات سے ہے اور ابتلاء اس قوم کے لئے ایسا لازم حال ہے کہ گویا ان ربّانی سپاہیوں کی ایک روحانی وردی ہے جس سے یہ شناخت کئے جاتے ہیں۔اور جس شخص کو اس سنت کے برخلاف کوئی کامیابی ہو وہ استدراج ہے نہ کامیابی۔اور نیز یاد رکھنا چاہیے کہ یہ نہایت درجہ کی بدقسمتی و ناسعادتی ہے کہ انسان جلدتر بدظنی کی طرف جھک جائے اور یہ اصول قرار دے دیوے کہ دنیا میں جس قدر خدائے تعالیٰ کی راہ کے مدّعی ہیں وہ سب مکاّر اور فریبی اور دوکاندار ہی ہیں کیونکہ ایسے ردی اعتقاد سے رفتہ رفتہ وجود ولایت میں شک پڑے گا اور پھر ولایت سے انکاری ہونے کے بعد نبوّت کے منصب میں کچھ کچھ تردّدات پیدا ہوجاویں گے اور پھر نبوت سے منکر ہونے کے پیچھے خدائے تعالیٰ کے وجود میں کچھ دغدغہ اور خلجان پیدا ہوکر یہ دھوکا دل میں شروع ہوجائے گا کہ شاید یہ ساری بات ہی بناوٹی اور بے اصل ہے اور شاید یہ سب اوہام باطلہ ہی ہیں کہ جو لوگوں کے دلوں میں جمتے ہوئے چلے آئے ہیں۔سو اے سچائی کے ساتھ بجان و دل پیار کرنے والو! اوراے صداقت کے بھوکو اور پیاسو! یقینا سمجھو کہ ایمان کو اس آشوب خانہ سے سلامت لے جانے کے لئے ولایت اور اس کے لوازم کا یقین نہایت ضروریات سے ہے۔ولایت نبوّت کے اعتقاد کی پناہ ہے اور نبوت اقرار وجود باری تعالیٰ کے لئے پناہ۔پس اولیاء انبیاء کے وجود کے لئے سیخوں کی مانند ہیں اور انبیاء خدا تعالیٰ کا وجود قائم کرنے کے لئے نہایت مستحکم کیلوں کے مشابہ ہیں سو جس شخص کو کسی ولی کے وجود پر مشاہدہ کے طور پر معرفت حاصل نہیں اُس کی نظر نبی کی معرفت سے بھی قاصر ہے اور جس کو نبی کی کامل معرفت نہیں وہ خدا تعالیٰ کی کامل معرفت سے بھی بے بہرہ ہے اور ایک دن ضرور ٹھوکر کھائے گا اور سخت ٹھوکر کھائے گا اور مجرد دلائل عقلیہ اور علوم رسمیہ کسی کام نہیں آئیں گی۔اب ہم فائدہ عام کے لئے یہ بھی لکھنا مناسب سمجھتے ہیں کہ بشیر احمد کی موت ناگہانی طور پر نہیں ہوئی بلکہ اللہ جَلَّ شَانُہٗ نے اُس کی وفات سے پہلے اس عاجز کو اپنے الہامات کے ذریعہ سے پوری پوری بصیرت بخش دی تھی کہ یہ لڑکا اپنا کام کرچکا