مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 194
اپنے سچے اور وفادار عاشقوں کو ذلّت کے ساتھ ہلاک کر ڈالے بلکہ حقیقت میں وہ ابتلاء کہ جو شیر ببر کی طرح اور سخت تاریکی کی مانند نازل ہوتا ہے اس لئے نازل ہوتا ہے کہ تا اس برگزیدہ قوم کو قبولیت کے بلند مینار تک پُہنچاوے اور الٰہی معارف کے باریک دقیقے اُن کو سکھاوے۔یہی سنت اللہ ہے۔جو قدیم سے خدائے تعالیٰ اپنے پیاروں،بندوں کے ساتھ استعمال کرتا چلا آیا ہے زبور میں حضرت دائود کی ابتلائی حالت میں عاجزانہ نعرے اس سنت کو ظاہر کرتے ہیں اور انجیل میں آزمائش کے وقت میں حضرت مسیح کی غریبانہ تضرّعات اسی عادت اللہ پر دال ہیں اور قرآن شریف اور احادیث نبویہ میں جناب فخر الرسل کی عبودیت سے ملی ہوئی ابتہالات اسی قانون قُدرت کی تصریح کرتے ہیں ۱؎ اگر یہ ابتلاء درمیان میں نہ ہوتا تو انبیاء اور اولیاء ان مدارج عالیہ کو ہرگز نہیں پا سکتے کہ جو ابتلاء کی برکت سے اُنہوں نے پالئے۔ابتلاء نے اُن کی کامل وفاداری اور مستقل ارادے اور جانفشانی کی عادت پر مہر لگا دی اور ثابت کر دکھایا کہ وہ آزمائش کے زلازل کے وقت کس اعلیٰ درجہ کا استقلال رکھتے ہیں اور کیسے سچّے وفادار اور عاشق صادق ہیں کہ ان پر آندھیاں چلیں اور سخت سخت تاریکیاں آئیں اور بڑے بڑے زلزلے اُن پر وارد ہوئے اور وہ ذلیل کئے گئے اور جھوٹوں اور مکّاروں اور بے عزّتوں میں شمار کئے گئے اور اکیلے اور تنہا چھوڑے گئے یہاں تک کہ ربّانی مددوں نے بھی جن کا ان کو بڑا بھروسہ تھا کچھ مدت تک منہ چھپالیا اور خدا تعالیٰ نے اپنی مربیانہ عادت کو بہ یکبارگی کچھ ایسا بدل دیا کہ ۱؎ حاشیہ۔زبور میں حضرت داؤد علیہ السلام کی دعاؤں میں سے جو انہوں نے ابتلائی حالت میں کیں ایک یہ ہے۔اے خدا تو مجھ کو بچالے کہ پانی میری جان تک پہنچے ہیں۔میں گہری کیچ میں دھس چلا جہاں کھڑے ہونے کی جگہ نہیں۔مَیں چلاتے چلاتے تھک گیا، میری آنکھیں دھندلا گئیں۔وہ جو بے سبب میرا کینہ رکھتے ہیں شمار میں میرے سر کے بالوں سے زیادہ ہیں۔اے خداوند ربّ الافواج وہ جو تیرا انتظار کرتے ہیں میرے لیے شرمندہ نہ ہوں۔وہ جو تجھ کو ڈھونڈتے ہیں وہ میر ے لیے ندامت نہ اٹھائیں۔وے پھاٹک پر بیٹھے ہوئے میری بابت بکتے ہیں اور نشے باز میرے حق میں گاتے ہیں۔تو میری ملامت کشی اور میر ی رسوائی اور میری بے حرمتی سے آگاہ ہے۔میں نے تاکاکہ کیا کوئی میرا ہمدرد ہے کوئی نہیں۔(دیکھو زبور۶۹)ایسا ہی حضرت مسیح علیہ السلام نے ابتلاء کی رات میں جس قدر تضرعات کئے وہ انجیل سے ظاہر ہیں۔تمام رات حضرت مسیح جاگتے رہے اور جیسے کسی کی جان ٹوٹتی ہے غم و اندوہ سے ایسی حالت ان پر