مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 193 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 193

کیا گیا ہے کہ ہر یک نبی اور ولی سے اپنے ان مکاشفات اور پیشگوئیوں کی تشخیص و تعیین میں کہ جہاں خدا تعالیٰ کی طرف سے بخوبی تفہیم نہیں ہوئی غلطی واقع ہوسکتی ہے اور اِس غلطی سے اُن انبیاء اور اصفیا کی شان میں کچھ بھی فرق نہیں آتا کیونکہ علم وحی بھی منجملہ علوم کے ایک علم ہے اور جو قاعدہ فطرت اور قانون قدرت قُوّتِ نظریہ کے دخل دینے کے وقت تمام علوم و فنون کے متعلق ہے اُس قاعدہ سے یہ علم باہر نہیں رہ سکتا اور جن لوگوں کو انبیا اور اولیا میں سے یہ علم دیا گیا ہے اُن کو مجبوراً اس کے تمام عوارض و لوازم بھی لینے پڑتے ہیں۔یعنی اُن پر وارد ہوتے ہیں جن میں سے ایک اجتہادی غلطی ہی ہے پس اگر اجتہادی غلطی قابل الزام ہے تو یہ الزام جمیع انبیاء و اولیاء و علماء میں مشترک ہے۔یہ بھی نہیں سمجھنا چاہیے کہ کسی اجتہادی غلطی سے ربّانی پیش گوئیوں کی شان و شوکت میں فرق آجاتا ہے یا وہ نوع انسان کے لئے چنداں مفید نہیں رہتیں یا وہ دین اور دینداروں کے گروہ کو نقصان پہنچاتی ہیں کیونکہ اجتہادی غلطی اگر ہو بھی تو محض درمیانی اوقات میں بطور ابتلاء کے وارد ہوتی ہے اور پھر اس قدر کثرت سے سچائی کے نور ظہور پذیر ہوتے ہیں اور تائیدات الٰہیہ اپنے جلوے دکھاتے ہیں کہ گویا ایک دن چڑھ جاتا ہے اور مخاصمین کے سب جھگڑے ان سے انفصال پاجاتے ہیں۔لیکن اس روز روشن کے ظہور سے پہلے ضرور ہے کہ خدائے تعالیٰ کے فرستادوں پر سخت سخت آزمائشیں وارد ہوں اور ان کے پیرو اور تابعین بھی بخوبی جانچے اور آزمائے جائیں تا خدا تعالیٰ سچوں اور کچوں اور ثابت قدموں اور بزدلوں میں فرق کرکے دکھلا دیوے۔عشق اوّل سرکش و خونی بود تا گریزد ہر کہ بیرونی بود۱؎ ابتلاء جو اوائل حال میں انبیاء اور اولیاء پر نازل ہوتا ہے اور باوجود عزیز ہونے کے ذلّت کی صورت میں ان کو ظاہر کرتا ہے اور باوجود مقبول ہونے کے کچھ مردود سے کرکے اُن کو دکھاتا ہے یہ ابتلاء اس لئے نازل نہیں ہوتا کہ ان کو ذلیل اور خوار اور تباہ کرے یا صفحۂ عالم سے ان کا نام و نشان مٹا دیوے کیونکہ یہ تو ہرگز ممکن ہی نہیں کہ خداوند عزوجل اپنے پیار کرنے والوں سے دشمنی کرنے لگے اور ۱؎ ترجمہ۔شروع میں عشق بہت منہ زور اور خونخوار ہوتا ہے، تا وہ شخص جو صرف تماشائی ہے بھاگ جائے۔