مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 192
ہمارے ایسے اشتہارات ان کی نظر سے گزرے ہوتے جن میں ہم نے قیاسی طور پر پسر متوفی کو مصلح موعود اور عمر پانے والا قرار دیا ہوتا۔تب بھی ان کی ایمانی سمجھ اور عرفانی واقفیت کا مقتضا یہ ہونا چاہیئے تھا کہ یہ ایک اجتہادی غلطی ہے کہ جو کبھی کبھی علماء ظاہر و باطن دونوں کو پیش آجاتی ہے یہاں تک کہ اولوالعزم رسول بھی اُس سے باہر نہیں ہیں مگر اس جگہ تو کوئی ایسا اشتہار بھی شائع نہیں ہوا تھا محض دریا ندیدہ موزہ از پاکشیدہ پر عمل کیا گیا اور یاد رہے کہ ہم نے یہ چند سطریں جو عام مسلمانوں کی نسبت لکھی ہیں محض سچی ہمدردی کے تقاضا سے تحریر کی گئی ہیں تا وہ اپنے بے بُنیاد وساوس سے باز آجائیں اور ایسا ردی اور فاسد اعتقاد دل میں پیدا نہ کرلیں جس کا کوئی اصل صحیح نہیں ہے بشیر احمد کی وفات پر اُنہیں وساوس اور اوہام میں پڑنا انہیں کی بے سمجھی و نادانی ظاہر کرنا ہے ورنہ کوئی محل آویزش و نُکتہ چینی نہیں ہے ہم بار بار لکھ چکے ہیں کہ ہم نے کوئی اشتہار نہیں دیا جس میں ہم نے قطع اور یقین ظاہر کیا ہو کہ یہی لڑکا مصلح موعود اور عمر پانے والا ہے اور گو ہم اجتہادی طور پر اس کی ظاہری علامات سے کسی قدر اس خیال کی طرف جھک بھی گئے تھے مگر اسی وجہ سے اِس خیال کی کھلے کھلے طور پر بذریعہ اشتہارات اشاعت نہیں کی گئی تھی کہ ہنوز یہ امر اجتہادی ہے اگر یہ اجتہاد صحیح نہ ہوا تو عوام الناس جو دقائق و معارف علم الٰہی سے محض بے خبر ہیں وہ دھوکا میں پڑ جائیں گے۔مگر نہایت افسوس ہے کہ پھر بھی عوام کالانعام دھوکا کھانے سے باز نہیں آئے اور اپنی طرف سے حاشیئے چڑھا لئے انہیں اس بات کا ذرا بھی خیال نہیں کہ ان کے اعتراضات کی بنا صرف یہ وہم ہے کہ کیوں اجتہادی غلطی وقوع میں آئی۔ہم اس کا جواب دیتے ہیں کہ اول تو کوئی ایسی اجتہادی غلطی ہم سے ظہور میں نہیں آئی جس پر ہم نے قطع اور یقین اور بھروسہ کرکے عام طور پر اس کو شائع کیا ہو پھر بطور تنزل ہم یہ پوچھتے ہیں کہ اگر کسی نبی یا ولی سے کسی پیش گوئی کی تشخیص و تعیین میں کوئی غلطی وقوع میں آجائے تو کیا ایسی غلطی اس کے مرتبہ نبوت یا ولایت کو کچھ کم کرسکتی ہے یا گھٹا سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔یہ سب خیالات نادانی و ناواقفیت کی وجہ سے بصورت اعتراض پیدا ہوتے ہیں چونکہ اس زمانہ میں جہالت کا انتشار ہے اور علوم دینیہ سے سخت درجہ کی لوگوں کو لاپروائی ہے اس وجہ سے سیدھی باتبھی الٹی دکھائی دیتی ہے ورنہ یہ مسئلہ بالاتفاق مانا گیا اور قبول