مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 183
برکت کا نشان یہ ہے کہ اس پیوند سے دین اُن کا درست ہو گا۔اور دنیا ان کی من کل الوجوہ صلاحیت پذیر ہو جائے گی اور وہ بلائیں جو عنقریب اترنے والی ہیں نہیں اتریں گی اور قہر کا نشان وہی ہے جو اشتہار میں ذکر ہو چکا اور نیز وہ جو تتمہ ھٰذا میں درج ہے۔۱؎ وَالسَّلَامُ عَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الْمُؤْمِنِیْنَ۔خاکــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور پانز دہم جولائی ۱۸۸۸ء ۲؎ (تبلیغ رسالت جلد ۱ صفحہ ۱۱۸ تا ۱۲۰) ۱؎ قہری نشانوں میں سے کسی قدر اشتہار ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء میں بھی درج ہے اور جنوری ۱۸۸۶ء میں بمقام ہوشیار پور ایک اور الہام عربی مرزا احمد بیگ کی نسبت ہوا تھا۔جس کو ایک مجمع میں جس میں بابو الٰہی بخش صاحب اکونٹنٹ و مولوی برہان الدین صاحب جہلمی بھی موجود تھے سنایا گیا تھا جس کی عبارت یہ ہے۔رَأَیْتُ ھٰذِہِالْمَرْأَۃَ وَ اَثَرُ الْبُکَآئِ عَلٰی وَجْھِھَا فَقُلْتُ اَیَّتُھَا الْمَرْأَۃُ تُوْبِیْ تُوْبِیْ فَاِنَّ الْبَلَآئَ عَلٰی عَقِبِکِ وَ الْمُصِیْبَۃُ نَازِلَۃٌ عَلَیْکِ۔یَمُوْتُ وَ یَبْقٰی مِنْہُ کِلَابٌ مُتَعَدِّدَۃٌ۔منہ (مطبوعہ ریاض ہند پریس امرت سر) (یہ اشتہار کے دو صفحوں پر ہے) ۲؎ یہ اصل اشتہار مطبوعہ ریاض ہند پریس امرت سر علیحدہ شائع ہوا تھا اور اس کی نقل آئینہ کمالات اسلام کے صفحہ ۲۸۱ لغایت صفحہ ۲۸۸ (روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۲۸۱ تا ۲۸۸)پر بھی درج ہے۔(مرتب)