مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 176
پوچھتے ہیں کہ جو لوگ جوگی اور راہب اور سنیاسی کہلاتے ہیں یہ پاک رُوح اُن میں سے کس کو دی گئی ہے؟ کیا کسی پادری میں یہ پاک رُوح یا یوں کہو کہ رُوح القدس پائی جاتی ہے ؟ہم تمام دنیا کے پادریوں کو بُلاتے بُلاتے تھک بھی گئے۔کسی نے آواز تک نہیں دی۔نور افشاں میں بعض پادریوں نے چھپوایا تھا کہ ہم ایک جلسہ میں ایک لفافہ بند پیش کریں گے۔اس کا مضمون الہام کے ذریعہ سے ہمیں بتلایا جائے، لیکن جب ہماری طرف سے مسلمان ہونے کی شرط سے یہ درخواست ۱؎ منظور ہوئی تو پھر پادریوں نے اس طرف رُخ بھی نہ کیا۔پادری لوگ مدت سے الہام پر مُہر لگائے بیٹھے تھے۔اب جب مُہر ٹوٹی اور فیض روح القدس مسلمانوں پر ثابت ہوا تو پادریوں کے اعتقاد کی قلعی کھل گئی۔لہٰذا ضرور تھا کہ پادریوں کو ہمارے الہام سے دوہرا رنج ہوتا۔ایک مُہر ٹوٹنے کا۔دوسرے الہام کی نقل منگانے کا۔سو نور افشاں کی سخت زبانی کا اصل موجب وہی رنج ہے جو ذبولے دق کی طرح لاعلاج ہے۔اب یہ جاننا چاہیے کہ جس خط کو ۱۰؍ مئی ۱۸۸۸ء کے نورافشاں میں فریق مخالف نے چھپوایا ہے۔وہ خط محض ربّانی اشارہ سے لکھا گیا تھا۔ایک مدت دراز سے بعض سرگروہ اور قریبی رشتہ دار مکتوب الیہ کے جن کے حقیقی ہمشیرہ زادہ کی نسبت درخواست کی گئی تھی، نشان آسمانی کے طالب تھے اور طریقہ اسلام سے انحراف اور عناد رکھتے تھے اور اب بھی رکھتے ہیں۔چنانچہ اگست ۵ ۱۸۸ ء میں جو چشمہ نور امرتسر میں ان کی طرف سے اشتہار چھپا تھا یہ درخواست ان کی اس اشتہار میں بھی مندرج ہے۔ان کو نہ محض مجھ سے بلکہ خدا اور رسول سے بھی دشمنی ہے اور والدا س دُختر کا بباعث شدّت تعلق قرابت ان لوگوں کی رضا جوئی میں محو اور ان کے نقش قدم پر دل و جان سے فدا اور اپنے خیالات سے قاصر و عاجز بلکہ انہیں کا فرمانبردار ہو رہا ہے۔اور اپنی لڑکیاں انہیں کی لڑکیاں خیال کرتا ہے اوروہ ایسا ہی سمجھتے ہیں اور ہر باب میں اس کے مدار المہام اور بطور نفس ناطقہ کے اس کے لیے ہو رہے ہیں۔تبھی تو نقارہ بجا کر اس کی لڑکی کے بارہ میں آپ ہی شہرت دے دی یہاں تک کہ عیسائیوں کے اخباروں کو اس قصّہ سے بھر دیا۔آفریں بریں عقل و دانش۔ماموں ہونے کا خوب ہی حق ادا کیا۔ماموں ہوں تو ۱؎ دیکھو اشتہار نمبر۴۷ جلد ہذا (مرتب)