مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 174
تقویٰ کے لیے یہ فعل کیا زبردست ممد و معین ہے۔خاوندوں کی حاجت براری کے بارے میں جو عورتوں کی فطرت میں ایک نقصان پایا جاتا ہے۔جیسے ایّامِ حمل اور حیض نفاس میں، یہ طریق بابرکت تدارک اس نقصان کا کرتا ہے۔اورجس حق کا مطالبہ مرد اپنی فطرت کی رُو سے کر سکتا ہے وہ اُسے بخشتا ہے۔ایسا ہی مرد اور کئی وجوہات اور موجبات سے ایک سے زیادہ بیوی کرنے کے لیے مجبور ہوتا ہے۔مثلاً اگر مرد کی ایک بیوی تغیر عمر یا کسی بیماری کی وجہ سے بد شکل ہو جائے تو عورت مرد کی قوت فاعلی جس پر سارا مدار مرد اور عورت کی کارروائی کا ہے۔بیکار اور معطّل ہو جاتی ہے، لیکن اگر مرد بدشکل ہو۔تو عورت کا کچھ بھی حرج نہیں کیونکہ کارروائی کی کَل مرد کو دی گئی ہے اور عورت کی تسکین کرنا مرد کے ہاتھ میں ہے۔ہاں اگر مرد اپنی قوت مردی میں قصور یا عجز رکھتا ہے تو قرآنی حکم کے رُو سے عورت اس سے طلاق لے سکتی ہے اور اگر پوری پوری تسلّی کرنے پر قادر ہو تو عورت یہ عذر نہیں کر سکتی کہ دوسری بیوی کیوں کی ہے کیونکہ مرد کی ہر روزہ حاجتوں کی ذمہ وار اور کار برار نہیں ہو سکتی اور اس سے مرد کا استحقاق دوسری بیوی کرنے کے لیے قائم رہتا ہے۔جو لوگ قوی الطاقت اور متقی اور پارسا طبع ہیں ان کے لیے یہ طریق نہ صرف جائز بلکہ واجب ہے۔بعض اسلام کے مخالف اپنے نفسِ امّارہ کی پیروی سے سب کچھ کرتے ہیں، مگر اس پاک طریق سے سخت نفرت رکھتے ہیں کیونکہ بوجہ اندرونی بے قیدی کے جو اُن میں پھیل رہی ہے ان کو اس پاک طریق کی کچھ پروا اور حاجت نہیں۔اس مقام میں عیسائیوں پر سب سے بڑھ کر افسوس ہے کیونکہ وہ اپنے مسلم الثبوت انبیاء کے حالات سے آنکھ بند کر کے مسلمانوں پر ناحق دانت پیسے جاتے ہیں۔شرم کی بات ہے کہ جن لوگوں کا اقرار ہے کہ حضرت مسیحؑ کے جسم اور وجود کا خمیر اور اصل جڑ اپنی ماں کی جہت سے وہی کثرت ازدواج ہے۔جس کی حضرت دائود (مسیح کے باپ) نے نہ دو نہ تین بلکہ سو بیوی تک نوبت پہنچائی تھی۔وہ بھی ایک سے زیادہ بیوی کرنا زنا کرنے کی مانند سمجھتے ہیں۔اور اس پُر خبث کلمہ کا نتیجہ جو حضرت مریم صدیقہ کی طرف عائد ہوتا ہے اس سے ذرا پرہیز نہیں کرتے۔اور باوجود اس تمام بے ادبی کے دعویٰ محبت مسیح رکھتے ہیں۔جاننا چاہیے کہ بیبل کے رُو سے تعدّد نکاح نہ صرف قولاً ثابت ہے بلکہ بنی اسرائیل کے اکثر نبیوں نے جن میں حضرت مسیح