مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 160
طور پر مضمون مذکورہ بالا لکھ دیا یعنی یہ کہ اگر لڑکا اس حمل میں پیدا نہ ہوا تو دوسرے حمل میں ضرور ہو گا۔حمل موجودہ سے خاص تھا جس سے لڑکی ہوئی۔مَیں نے ہر ایک مجلس اور ہر ایک تحریر و تقریر میں انہیں جواب دیا کہ یہ حجت تمہاری فضول ہے کیونکہ کسی الہام کے وہ معنے ٹھیک ہوتے ہیں کہ ملہم آپ بیان کرے۔اور ملہم کے بیان کردہ معنوں پر کسی اور کی تشریح اور تفسیر ہرگز فوقیت نہیں رکھتی کیونکہ ملہم اپنے الہام سے اندرونی واقفیت رکھتا ہے اور خدا تعالیٰ سے خاص طاقت پا کر اس کے معنے کرتا ہے۔پس جس حالت میں لڑکی پیدا ہونے سے کئی دن پہلے عام طور پر کئی سو اشتہار چھپوا کر میں نے شائع کر دیئے اور بڑے بڑے آریوں کی خدمت میں بھی بھیج دیئے۔تو الہامی عبارت کے وہ معنے قبول نہ کرنا جو خود ایک خفی الہام نے میرے پر ظاہر کئے اور پیش از ظہور مخالفین تک پہنچا دیئے گئے کیا ہٹ دھرمی ہے یا نہیں۔کیا ملہم کااپنے الہام کے معانی بیان کرنا یا مُصنّف کا اپنی تصنیف کے کسی عقیدہ کو ظاہر کرنا تمام دوسرے لوگوں کے بیانات سے عند العقل زیادہ معتبر نہیں ہے۔بلکہ خود سوچ لینا چاہیے کہ مصنّف جو کچھ پیش از وقوع کوئی امر غیب بیان کرتا ہے اور صاف طور پر ایک بات کی نسبت دعویٰ کر لیتا ہے تو وہ اپنے الہام اور اس تشریح کا آپ ذمہ وار ہوتا ہے اور اس کی باتوں میں دخل بے جا دیناایسا ہے جیسے کوئی کسی مصنّف کو کہے کہ تیری تصنیف کے یہ معنے نہیں بلکہ یہ ہیں جو مَیں نے سوچے ہیں۔اب ہم اصل اشتہار ۸؍ اپریل ۱۸۸۶ء ناظرین کے ملاحظہ کے لیے ذیل میں لکھتے ہیں۱؎ تا ان کو اطلاع ہو کہ ہم نے پیش از وقوع اپنی پیشگوئی کی نسبت کیا دعویٰ کیا تھا اور پھر وہ کیسا اپنے وقت پر پورا ہوا۔المشـــــــــــــــــــــــــــــــــتھر خاکسار غلام احمد۔از قادیان ضلع گورداسپور ۷؍ اگست ۱۸۸۷ء مؤلّف وکٹوریہ پریس لاہور یکّی دروازہ (یہ اشتہار کے دو صفحہ پر ہے) (تبلیغ رسالت جلد ۱ صفحہ ۹۹ تا ۱۰۱) ۱؎ مذکورہ اشتہار زیر عنوان ’’اشتہار صداقت آثار‘‘ جلد ھٰذا صفحہ۱۳۲،۱۳۳ پر زیر نمبر۳۵ درج ہو چکا ہے