مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 138
میں پادری کا لفظ ایسا خفیف اور دور از فضیلت سمجھا جاتا ہے کہ گویا اس لفظ سے یہ مفہوم لازم پڑا ہوا ہے کہ جب کسی کو پادری کرکے پکارا جاوے تو ساتھ ہی دل میں یہ بھی گزر جاتا ہے کہ یہ شخص اعلیٰ درجہ کی علمی تحصیلوں اور لیاقتوں اور باریک خیالات سے بے نصیب ہے اور جس قدر ان پادری صاحبان نے اہل اسلام پر مختلف قسم کے اعتراضات کرکے اور بار بار ٹھوکریں کھا کر اپنے خیالات میں پلٹے کھائے ہیں اور طرح طرح کی ندامتیں اٹھا کر پھر اپنے اقوال سے رجوع کیا ہے۔یہ بات اس شخص کو بخوبی معلوم ہوگی کہ جو ان کے اور فضلاء اسلام کے باہمی مباحثات کی کتابوں پر ایک محیط نظر ڈالے۔ان کے اعتراضات تین قسم سے باہر نہیں۔یا تو ایسے ہیں کہ جو سراسر افترا اور بہتان ہے جن کی اصلیت کسی جگہ پائی نہیں جاتی اور یا ایسے ہیں کہ فِی الْحَقِیْقت وہ باتیں ثابت تو ہیں لیکن محل اعتراض نہیں محض سادہ لوحی اور کورباطنی اور قلتِ تدبر کی وجہ سے ان کو جائے اعتراض سمجھ لیا ہے اور یا بعض ایسے امور ہیں کہ کسی قدر تو سچ ہیں جو ایک ذرہ جائے اعتراضات نہیں ہوسکتے اور باقی سب بہتان اور افترا ہیں جو ان کے ساتھ ملائے گئے ہیں۔اب افسوس تو یہ ہے کہ آریوں نے اپنے گھر کی عقل کو بالکل استعفا دے کر ان کی ان تمام دور از صداقت کارروائیوں کو سچ مچ صحیح اور درست سمجھ لیا ہے اور بعض آریہ ایسے بھی ہیں کہ وہ قرآن شریف کا ترجمہ کسی جگہ سے ادھوراسا دیکھ کر یا کوئی قصہ بے سروپا کسی جاہل یا مخالف سے سن کر جھٹ پٹ اس کو بنائِ اعتراض قرار دے دیتے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ جس شخص کے دل میں خدائے تعالیٰ کا خوف نہیں ہوتا اس کی عقل بھی بباعث تعصب اور عناد کی زہروں کے نہایت ضعیف اور مردہ کی طرح ہوجاتی ہے اور جو بات عین حکمت اور معرفت کی ہو وہ اس کی نظر سقیم میں سراسر عیب دکھائی دیتی ہے سو اسی خیال سے یہ اشتہار جاری کیا جاتا ہے اور ظاہر کیا جاتا ہے کہ جس قدر اصول اور تعلیمیں قرآن شریف کی ہیں وہ سراسر حکمت اور معرفت اور سچائی سے بھری ہوئی ہیں اور کوئی بات ان میں ایک ذرّہ مؤاخذہ کے لائق نہیں اور چونکہ ہر ایک مذہب کے اصولوں اور تعلیموں میں صدہا جزئیات ہوتی ہیں اور ان سب کی کیفیت کا معرض بحث میں لانا ایک بڑ ی مہلت کو چاہتا ہے اس لئے ہم اس بارہ میں قرآن شریف کے اصولوں کے منکرین کو ایک نیک صلاح دیتے ہیں کہ گر ان کو اصول