مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 129
ہیں۔معترضین یا جس شخص کو شبہ ہو اس پر واجب ہے کہ اپنا شبہ رفع کرنے کے لئے وہاں چلا جاوے۔اور اس جگہ ارد گرد سے خوب دریافت کر لے۔اگر کرایہ آمدورفت موجود نہ ہو تو ہم اس کو دے دیں گے، لیکن اگر اب بھی جا کر دریافت نہ کرے اور نہ دروغ گوئی سے باز آوے تو بجز اس کے کہ ہمارے اور تمام حق پسندوں کی نظر میں لَعْنَتُ اللّٰہِ عَلَی الْکٰذِبِیْنَ کا لقب پاوے اور نیز زیر عتاب حضرت احکم الحاکمین کے آوے۔اور کیا ثمرہ اس یاوہ گوئی کا ہو گا۔خدا تعالیٰ ایسے شخصوں کو ہدایت دیوے کہ جو جوش حسد میں آ کر اسلام کی کچھ پر واہ نہیں رکھتے۔اور اس دردغ گوئی کے مآل کو بھی نہیں سوچتے۔اس جگہ اس وہم کو دور کرنا بھی قرین مصلحت ہے کہ جو بمقام ہوشیار پور ایک آریہ صاحب نے اس پیشگوئی پر بصورت اعتراض پیش کیا تھا کہ لڑکا لڑکی کے پیدا ہونے کی شناخت دائیوں کو بھی ہوتی ہے۔یعنی دائیاں بھی معلوم کر سکتی ہیں کہ لڑکا پیدا ہوگا یا لڑکی۔واضح رہے کہ ایسا اعتراض کرنا معترض صاحب کی سراسر حیلہ سازی و حق پوشی ہے۔کیونکہ اوّل تو کوئی دائی ایسا دعویٰ نہیں کر سکتی بلکہ ایک حاذق طبیب بھی ایسا دعویٰ ہرگز نہیں کر سکتا کہ اس امر میں میری رائے قطعی اور یقینی ہے جس میں تخلّف کا امکان نہیں صرف ایک اٹکل ہوتی ہے کہ جو بارہا خطا جاتی ہے۔علاوہ اس کے یہ پیشگوئی آج کی تاریخ سے دو برس پہلے کئی آریوں اور مسلمانوں و بعض مولویوں و حافظوں کو بھی بتلائی گئی تھی۔چنانچہ آریوں میں سے ایک شخص ملاوامل نام جو سخت مخالف اور نیز شرمپت ساکنان قصبہ قادیان ہیں۔ماسوا اس کے ایک نادان بھی سمجھ سکتا ہے کہ مفہوم پیشگوئی کا اگر بنظر یکجائی دیکھا جاوے تو ایسا بشری طاقتوں سے بالا تر ہے جس کے نشان الٰہی ہونے میں کسی کو شک نہیں رہ سکتا۔اگر شک ہو تو ایسی قسم کی پیشگوئی جو ایسے ہی نشان پر مشتمل ہو پیش کرے۔اس جگہ آنکھیں کھول کر دیکھ لینا چاہیئے کہ یہ صرف پیشگوئی ہی نہیں بلکہ ایک عظیم الشان نشان آسمانی ہے جس کو خدائے کریم جَلَّ شَانُہٗ نے ہمارے نبی کریم رؤف و رحیم محمدمصطفی صلی اللہ و علیہ وآلہٖ و سلم کی صداقت و عظمت ظاہر کرنے کے لیے ظاہر فرمایا ہے اور در حقیقت یہ نشان ایک مُردہ کے زندہ کرنے سے صدہا درجہ اعلیٰ و اَولیٰ و اکمل و افضل و اتم ہے کیونکہ مردہ کے زندہ کرنے کی حقیقت یہی ہے کہ جناب الٰہی میں دعا کر کے ایک رُوح واپس منگوایا جاوے