مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 106
مجموعه اشتہارات ١٠٦ جلد اول بھی جاری رکھے لیکن افسوس کہ آپ کی تحریر سے یہ بھی پایا جاتا ہے کہ آپ ایسی مہذبانہ بحث کے بھی خواہاں نہیں ۔ کیونکہ آپ نے اپنے آخری خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ بحث کرنے سے پہلے میری حفاظت کے لیے گورنمنٹ میں مچلکہ داخل کرنا چاہیے یا ایسے صدر مقام حکام میں بحث ہونی چاہیے جس میں سرکاری رعب و داب کا خوف ہو۔ سو آپ کے ان کلمات سے صاف مترشح ہورہا ہے کہ آپ اس قسم کی بحث کے ہرگز خواہاں نہیں ہیں جو دو شریف آدمیوں میں محض اظہار حق کی غرض سے ہو سکتی ہے جس میں نہ کسی کا مچلکہ (جو ایک معزز آدمی کے لیے موجب ہتک عزت ہے ) داخل سر کار کرانے کی حاجت ہے اور نہ ایسے صدر مقام کی ضرورت ہے جس میں عند الفساد کھٹ پٹ سرکاری فوجیں پہنچ سکیں ۔ شاید آپ ایسی بحثوں کے عادی ہوں گے لیکن کوئی پاک خیال آدمی اس قسم کی بدبو دار بحثوں کو جو عجلت اور سوء ظن اور ریا کاری اور نفسانیت سے پُر ہیں، ہرگز پسند نہیں کرے گا اور اسی اصول پر مجھ کو بھی پسند نہیں۔ اور اگر آپ عہد شکنی کر کے فرید کوٹ کی طرف نہ بھاگتے تو یہ باتیں آپ کو زبانی بھی سمجھائی جاتیں ۔ ہر ایک منصف اور پاک دل آدمی سمجھ سکتا ہے کہ جن مباحث میں پہلے ہی ایسے ایسے سنگین تدارکات کی ضرورت ہے ان میں انجام بخیر ہونے کی کب توقع ہے۔ سو آپ پر واضح رہے کہ اس عاجز نے نہ کسی اپنے خط میں صرف مجرد بحث کو منظور کیا۔ اور نہ ایسی دور از تہذیب بحث پر رضا مندی ظاہر کی ۔ جس میں پہلے ہی مجرموں کی طرح مچلکہ داخل کرنے کے لیے انگریزی عدالتوں میں حاضر ہونا پڑے۔ اور پھر ہم میں اور آپ میں بٹیروں اور مرغوں کی طرح لڑائی ہونا شروع ہو، اور لوگ اردگرد سے جمع ہو کر اس کا تماشہ دیکھیں اور ایک ساعت یا دو ساعت کے عرصہ میں کسی فریق کے صدق ہوکر اس یا کذب کا سب فیصلہ ہو کر دوسرا فریق فتح کا نقارہ بجاوے۔ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ ۔ ایسی پُر فتنہ اور پُر خطر بخشیں جن میں فساد کا اندیشہ زیادہ اور احقاق حق کی اُمید کم ہے، کب کسی شریف اور منصف مزاج کو پسند آ سکتی ہیں اور ایسی پر عجلت بحثوں سے حق کے طالب کیا نفع اُٹھا سکتے ہیں۔ اور منصفوں کو رائے ظاہر کرنے کا کیونکر موقعہ مل سکتا ہے۔ اگر آپ کی نیت بخیر ہوتی تو آپ اس طرز کی بحثوں سے خود گریز کرتے اور ایک سال تک ٹھہر کر معقولیت اور شائستگی اور تہذیب سے شریفانہ بحث کا سلسلہ تحریری طور پر