مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 106 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 106

بھی جاری رکھے، لیکن افسوس کہ آپ کی تحریر سے یہ بھی پایا جاتا ہے کہ آپ ایسی مہذبانہ بحث کے بھی خواہاں نہیں۔کیونکہ آپ نے اپنے آخری خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ بحث کرنے سے پہلے میری حفاظت کے لیے گورنمنٹ میں مچلکہ داخل کرنا چاہیے یا ایسے صدر مقام حکّام میں بحث ہونی چاہیے جس میں سرکاری رُعب و داب کا خوف ہو۔سو آپ کے ان کلمات سے صاف مترشح ہو رہا ہے کہ آپ اس قسم کی بحث کے ہرگز خواہاں نہیں ہیں جو دو شریف آدمیوں میں محض اظہار حق کی غرض سے ہو سکتی ہے جس میں نہ کسی کا مچلکہ (جو ایک معزز آدمی کے لیے موجب ہتک عزت ہے) داخل سرکار کرانے کی حاجت ہے اور نہ ایسے صدرمقام کی ضرورت ہے جس میں عند الفساد جَھٹ پَٹ سرکاری فوجیں پہنچ سکیں۔شاید آپ ایسی بحثوں کے عادی ہوں گے لیکن کوئی پاک خیال آدمی اس قسم کی بدبُودار بحثوں کو جو عجلت اور سوء ظن اور ریا کاری اور نفسانیت سے پُر ہیں، ہرگز پسند نہیں کرے گا اور اسی اصول پر مجھ کو بھی پسند نہیں۔اور اگر آپ عہد شکنی کر کے فرید کوٹ کی طرف نہ بھاگتے تو یہ باتیں آپ کو زبانی بھی سمجھائی جاتیں۔ہر ایک منصف اور پاک دل آدمی سمجھ سکتا ہے کہ جن مباحث میں پہلے ہی ایسے ایسے سنگین تدارکات کی ضرورت ہے ان میں انجام بخیر ہونے کی کب توقع ہے۔سو آپ پر واضح رہے کہ اس عاجز نے نہ کسی اپنے خط میں صرف مجرد بحث کو منظور کیا۔اور نہ ایسی دُور از تہذیب بحث پر رضامندی ظاہر کی۔جس میں پہلے ہی مجرموں کی طرح مچلکہ داخل کرنے کے لیے انگریزی عدالتوں میں حاضر ہونا پڑے۔اور پھر ہم میں اور آپ میں بٹیروں اور مُرغوں کی طرح لڑائی ہونا شروع ہو، اور لوگ ارد گرد سے جمع ہو کر اس کا تماشہ دیکھیں اور ایک ساعت یا دو ساعت کے عرصہ میں کسی فریق کے صدق یا کذب کا سب فیصلہ ہو کر دوسرا فریق فتح کا نقارہ بجاوے۔نَعُوْذُ بِاﷲِ مِنْ ذٰلِکَ۔ایسی پُرفتنہ اور پُر خطر بحثیں جن میں فساد کا اندیشہ زیادہ اور احقاق حق کی اُمید کم ہے، کب کسی شریف اور منصف مزاج کو پسند آ سکتی ہیں اور ایسی پُر عجلت بحثوں سے حق کے طالب کیا نفع اُٹھا سکتے ہیں۔اور منصفوں کو رائے ظاہر کرنے کا کیونکر موقعہ مل سکتا ہے۔اگر آپ کی نیّت بخیر ہوتی تو آپ اس طرز کی بحثوں سے خود گریز کرتے اور ایک سال تک ٹھہر کر معقولیت اور شائستگی اور تہذیب سے شریفانہ بحث کا سلسلہ تحریری طور پر