مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 93
مجموعه اشتہارات ۹۳ جلد اول اب اس تمام تقریر سے ہماری یہ غرض ہر گز نہیں کہ آریہ لوگ اپنے وید مقدس اور اپنے بزرگ رشیوں اور بیاس جی اور منوجی کی قابل تعظیم فرمان اور اپنے محقق اور فاضل پنڈتوں کے قول سے کیوں خلاف ورزی اور انحراف کرتے ہیں ۔ بلکہ اس جگہ صرف یہ غرض ہے کہ آریہ قوم کیسی اولوالعزم اور باہمت اور اتفاق کرنے والی قوم ہے کہ ایک ادنی بات پر بھی کہ جس کی مذہب کے رو سے کچھ بھی اصلیت نہیں پائی جاتی وہ اتفاق کر لیتے ہیں اور ہزار ہا روپیہ چندہ ہاتھوں ہاتھ جمع ہو جاتا ہے۔ پس جس قوم کا ناکارہ خیالات پر یہ اتفاق اور جوش ہے اس قوم کی عالی ہمتی اور دلی جوش کا مہمات عظیمہ پر خود اندازہ کر لینا چاہیے۔ پست ہمت مسلمانوں کو لازم ہے کہ جیتے ہی مرجائیں ۔ اگر محبت خدا اور رسول کی نہیں تو اسلام کا دعوی کیوں کرتے ہیں کیا خباثت کے کاموں میں اور نفس امارہ کی پیروی میں اور ناک کے بڑھانے کی نیت سے بے اندازہ مال ضائع کرنا اور اللہ اور رسول کی محبت میں اور ہمدردی کی راہ میں ایک دانہ ہاتھ سے نہ چھوڑنا یہی اسلام ہے؟ نہیں یہ ہرگز اسلام نہیں۔ یہ ایک باطنی جذام ہے۔ یہی ادبار ہے کہ مسلمانوں پر عاید ہو رہا ہے۔ اکثر مسلمان امیروں نے مذہب کو ایک ایسی چیز سمجھ رکھا ہے کہ جس کی ہمدردی غریبوں پر ہی لازم ہے اور دولتمند اس سے مستثنیٰ ہیں۔ جنہیں اس بوجھ کو ہاتھ لگانا بھی منع ہے۔ اس عاجز کو اس تجربہ کا اس کتاب کے چھپنے کے اثناء میں خوب موقع ملا کہ حالانکہ بخوبی مشتہر کیا ، گیا تھا کہ اب باعث بڑھ جانے ضخامت کے اصل قیمت کتاب کی سو روپیہ ہی مناسب ہے کہ ذی مقدرت لوگ اس کی رعایت رکھیں کیونکہ غریبوں کو یہ صرف دس روپیہ میں دی جاتی ہے سو جبر نقصان کا واجبات سے ہے مگر بجر سات آٹھ آدمی کے سب غریبوں میں داخل ہو گئے ۔ خوب جبر کیا ہم نے جب کسی منی آرڈر کی تفتیش کی کہ یہ پانچ روپیہ بوجہ قیمت کتاب کس کے آئے ہیں یا یہ دس روپیہ کتاب کے مول میں کس نے بھیجے ہیں تو اکثر یہی معلوم ہوا کہ فلاں نواب صاحب نے یا فلاں رئیس اعظم نے ہاں نواب اقبال الدولہ صاحب حیدر آباد نے اور ایک اور رئیس نے ضلع بلند شہر سے جس نے اپنا نام ظاہر کرنے سے منع کیا ہے ایک نسخہ کی قیمت میں سوسور و پیہ بھیجا ہے اور ایک عہدہ دار محمد افضل خان نام نے ایک سو دس روپے اور نواب صاحب کوٹلہ مالیر نے تین نسخہ کی قیمت میں سور و پیہ بھیجا اور بارعت عفر بار