مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 87
آزادی نہ صرف ان خرابیوں سے خالی ہے بلکہ اسلامی ترقی کی بدرجہ غایت ناصر اور مؤید ہے۔مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس خداداد نعمت کا قدر کریں۔اور اس کے ذریعہ سے اپنی دینی ترقیات میں قدم بڑھاویں۔اور اس طرف بھی تو جہ کریں کہ اس مربی سلطنت کی شکر گزاری کے لئے یہ بھی پُرضرور ہے کہ جیسا اُن کی دولت ظاہری کی خیرخواہی کی جائے ایسا ہی اپنے وعظ اور معقول بیان اور عمدہ تالیفات سے یہ کوشش کی جائے کہ کسی طرح دین اسلام کی برکتیں بھی اس قوم کے حصہ میں آجائیں۔اور یہ امر بجز رفق اور مدارا اور محبت اور حلم کے انجام پذیر نہیں ہوسکتا۔خدا کے بندوں پر رحم کرنا اور عرب اور انگلستان وغیرہ ممالک کا ایک ہی خالق سمجھنا اور اس کی عاجز مخلوق کی دل و جان سے غمخواری کرنا اصل دین و ایمان کا ہے۔پس سب سے اول بعض ان ناواقف انگریزوں کے اس وہم کو دور کرنا چاہیے کہ جو بو جہ ناواقفیت یہ سمجھ رہے ہیں کہ گویا قوم مسلمان ایک ایسی قوم ہے کہ جو نیکی کرنے والوں سے بدی کرتی ہے اور اپنے محسنوں سے ایذا کے ساتھ پیش آتی ہے اور اپنی مربی گورنمنٹ کی بدخواہ ہے۔حالانکہ اپنے محسن کے ساتھ باحسان پیش آنے کی تاکید جس قدر قرآن شریف میں ہے اور کسی کتاب میں اس کا نام و نشان نہیں پایا جاتا۔وَقَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی۔ ۱؎۔وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔مَنِ اصْطَنَعَ اِلَیْکُمْ مَعْرُوْفًا فَجَازُوْہُ فَاِنْ عَجَزْتُمْ عَنْ مُجَازَاتِہٖ فَادْعُوْا لَہٗ حَتَّی یَعْلَمَ اَنَّکُمْ قَدْ شَکَرْتُمْ فَاِنَّ اللّٰہَ شَاکِرٌ یُحِبُّ الشَّاکِرِیْنَ۔الملتمس خاکسار غلام احمد عفی عنہُ (منقول از براہین احمدیہ حصہ سوم ملحقہ ٹائیٹل صفحہ الف، ب۔مطبوعہ ۱۸۸۲ء۔سفیر ہند پریس امرتسر) ( روحانی خزائن جلد ۱صفحہ ۱۳۷ تا ۱۴۲) ۱؎ النّحل: ۹۱