مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 83 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 83

اور پھر اس فعل کی تکمیل کے لئے مدد طلب کرنا۔خدا نے ہم کو ہماری ہر روزہ عبادت میں بھی یہی تعلیم دی ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ ہم  ۱؎ کہیں نہ یہ کہ    ۔مسلمانوں پر جن امور کا اپنی اصلاح حال کے لئے اپنی ہمت اور کوشش سے انجام دینا لازم ہے وہ انہیں فکر اور غور کے وقت آپ ہی معلوم ہوجائیں گے۔حاجت بیان و تشریح نہیں۔مگر اس جگہ ان امروں میں سے یہ امر قابل تذکرہ ہے جس پر گورنمنٹ انگلشیہ کی عنایات اور توجہات موقوف ہیں کہ گورنمنٹ ممدوحہ کے دل پر اچھی طرح یہ امر مرکوز کرنا چاہیے کہ مسلمانان ہند ایک وفادار رعیّت ہے۔کیونکہ بعض ناواقف انگریزوں نے خصوصاً ڈاکٹر ہنٹر صاحب نے کہ جو کمیشن تعلیم کے اب پریسیڈنٹ ہیں اپنی ایک مشہور تصنیف میں اس دعویٰ پر بہت اصرار کیا ہے کہ مسلمان لوگ سرکار انگریزی کے دلی خیر خواہ نہیں ہیں اور انگریزوں سے جہاد کرنا فرض سمجھتے ہیں۔گو یہ خیال ڈاکٹر صاحب کا شریعت اسلام پر نظر کرنے کے بعد ہریک شخص پر محض بے اصل اور خلاف واقعہ ثابت ہوگا۔لیکن افسوس کہ بعض کوہستانی اور بے تمیز سفہاء کی نالائق حرکتیں اس خیال کی تائید کرتی ہیں۔اور شاید انہیں اتفاقی مشاہدات سے ڈاکٹر صاحب موصوف کا وہم بھی مستحکم ہوگیا ہے۔کیونکہ کبھی کبھی جاہل لوگوں کی طرف سے اس قسم کی حرکات صادر ہوتی رہتی ہیں لیکن محقق پر یہ امر پوشیدہ نہیں رہ سکتا کہ اس قسم کے لوگ اسلامی تدین سے دور و مہجور ہیں اور ایسے ہی مسلمان ہیں جیسے مکلین عیسائی تھا۔پس ظاہر ہے کہ اُن کی یہ ذاتی حرکات ہیں نہ شرعی پابندی سے۔اور ان کے مقابل پر ان ہزارہا مسلمانوں کو دیکھنا چاہیے کہ جو ہمیشہ جاں نثاری سے خیر خواہی دولت انگلشیہ کی کرتے رہے ہیں اور کرتے ہیں۔۱۸۵۷ء میں جو کچھ فساد ہوا اس میں بجز جہلاء اور بدچلن لوگوں کے اور کوئی شائستہ اور نیک بخت مسلمان جو باعلم اور باتمیز تھا ہرگز مفسدہ میں شامل نہیں ہوا۔بلکہ پنجاب میں بھی غریب غریب مسلمانوں نے سرکار انگریزی کو اپنی طاقت سے زیادہ مدد دی۔چنانچہ ہمارے والد صاحب مرحوم نے بھی باوصف کم استطاعتی کے اپنے اخلاص اور جوش خیر خواہی سے پچاس گھوڑے اپنی گرہ سے خرید