عشق رسول ﷺ کا صحیح اظہار — Page 15
ثانی نہیں۔باوجود اس علم کے کہ آپ سب نبیوں سے افضل ہیں، یہودی کے جذبات کے احترام کے لئے آپ فرماتے ہیں کہ مجھے موسیٰ پر فضیلت نہ دو۔(صحیح البخاری کتاب في الخصومات باب ما یذکر فی الاشخاص والخصومة۔۔۔حديث نمبر 2411) غرباء کے جذبات کا خیال ہے اور اُن کے مقام کی اس طرح آپ نے عزت فرمائی کہ ایک دفعہ آپ کے ایک صحابی جو مالدار تھے وہ دوسرے لوگوں پر اپنی فضیلت ظاہر کر رہے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سن کر فرمایا کہ کیا تم سمجھتے ہو کہ تمہاری یہ قوت اور طاقت اور تمہارا یہ مال تمہیں اپنے زور بازو سے ملے ہیں؟ ایسا ہر گز نہیں ہے۔تمہاری قومی طاقت اور مال کی طاقت سب غرباء ہی کے ذریعہ سے آتے ہیں۔(صحيح البخارى كتاب الجهاد والسيرباب من استعان بالضعفاء و الصالحين في الحرب_حدیث 2896) آزادی کے یہ دعویدار، آج غرباء کے حقوق قائم کرتے ہیں۔اُن کے حقوق کے تحفظ کیلئے کوشش کرتے ہیں اور یہ اعلان کرتے ہیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے چودہ سو سال پہلے یہ کہہ کر یہ حقوق قائم فرما دیئے کہ مزدور کی مزدوری اُس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے دو۔(سنن ابن ماجہ کتاب الرهون باب اجر الأجراء حديث نمبر 2443) پس یہ اُس محسنِ انسانیت کا کہاں کہاں مقابلہ کریں گے۔بیشمار واقعات ہیں۔ہر پہلو خُلق کا آپ لے لیں، اس کے اعلیٰ نمونے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں نظر آئیں گے۔پھر اور نہیں تو یہی الزام لگا دیا کہ نعوذ باللہ آپ کو عورتیں بڑی پسند تھیں۔شادیوں پر اعتراض کیا تو پھر اللہ تعالیٰ نے اس کا رڈ بھی فرمایا۔اسے پتہ تھا کہ ایسے واقعات ہونے ہیں، ایسے سوال اُٹھنے ہیں تو وہ ایسے حالات پیدا کر دیتا تھا کہ اُن باتوں کا رڈ بھی سامنے آگیا۔اسماء بنت نعمان بن ابی جون کے بارے میں آتا ہے کہ عرب کی خوبصورت عورتوں میں سے تھیں۔وہ جب مدینہ آئی ہیں تو عورتوں نے انہیں وہاں جا کر دیکھا تو سب نے تعریف کی کہ 15