عشق رسول ﷺ کا صحیح اظہار

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 6 of 24

عشق رسول ﷺ کا صحیح اظہار — Page 6

اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے اور اس لعنت کی وجہ سے وہ اور زیادہ گندگی میں ڈوبتے چلے جائیں گے۔اور مرنے کے بعد ایسے لوگوں کے لئے خدا تعالیٰ نے رُسوا کن عذاب مقدر کیا ہوا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی مضمون کو بیان فرمایا ہے کہ ایسے بد زبان لوگوں کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔پس یہ لوگ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی لعنت کی صورت میں اور مرنے کے بعد رُسواگن عذاب کی صورت میں اپنے انجام کو پہنچیں گے۔جو دوسرے مسلمان ہیں، ان مسلمانوں کو بھی اللہ تعالیٰ کی تعلیم کے مطابق ، اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق یہ رد عمل دکھانا چاہئے کہ درود شریف سے اپنے ملکوں، اپنے علاقوں، اپنے ماحول کی فضاؤں کو بھر دیں۔سید رد عمل ہے۔یہ رد عمل تو بے فائدہ ہے کہ اپنے ہی ملکوں میں اپنی ہی جائیدادوں کو آگ لگائی جائے یا اپنے ہی ملک کے شہریوں کو مارا جائے یا جلوس نکل رہے ہیں تو پولیس کو مجبوراً اپنے ہی شہریوں پر فائرنگ کرنی پڑے اور اپنے لوگ ہی مر رہے ہوں۔اخبارات اور میڈیا کے ذریعے سے جو خبریں باہر آ رہی ہیں، اُن سے پتہ چلتا ہے کہ اکثر شریف الطبع مغربی لوگوں نے بھی اس حرکت پر نا پسندیدگی کا اظہار کیا ہے اور کراہت کا اظہار کیا ہے۔وہ لوگ جو مسلمان نہیں ہیں لیکن جن کی فطرت میں شرافت ہے انہوں نے امریکہ میں بھی اور یہاں بھی اس کو پسند نہیں کیا۔لیکن جو لیڈرشپ ہے وہ ایک طرف تو یہ کہتی ہے کہ یہ غلط ہے اور دوسری طرف آزادی اظہار و خیال کو آڑ بنا کر اس کی تائید بھی کرتی ہے۔یہ دو عملی نہیں چل سکتی۔آزادی کے متعلق قانون کوئی آسمانی صحیفہ نہیں ہے۔میں نے وہاں امریکہ میں سیاستدانوں کو تقریر میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا داروں کے بنائے ہوئے قانون میں سقم ہوسکتا ہے،غلطیاں ہوسکتی ہیں۔قانون بناتے ہوئے بعض پہلو نظروں سے اوجھل ہو سکتے ہیں کیونکہ انسان غیب کا علم نہیں رکھتا لیکن اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے۔اُس کے بنائے ہوئے قانون جو ہیں اُن میں کوئی سقم نہیں ہوتا۔پس اپنے قانون کو ایسا مکمل نہ سمجھیں کہ اس میں کوئی ردو بدل نہیں ہوسکتا، اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔آزادی اظہار کا قانون تو ہے لیکن نہ کسی ملک کے قانون میں، نہ یو این او 6