عشق رسول ﷺ کا صحیح اظہار

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 19 of 24

عشق رسول ﷺ کا صحیح اظہار — Page 19

کی آنکھوں کے سامنے مکر وہ کام کئے گئے اور وہ چپ رہا۔مگر اب وہ ہیبت کے ساتھ اپنا چہرہ دکھلائے گا جس کے کان سُننے کے ہوں سنے کہ وہ وقت دور نہیں۔میں نے کوشش کی کہ خدا کی امان کے نیچے سب کو جمع کروں پر ضرور تھا کہ تقدیر کے نوشتے پورے ہوتے فرمایا نوح کا زمانہ تمہاری آنکھوں کے سامنے آجائے گا اور لوط کی زمین کا واقعہ تم چشم خود دیکھ لو گے۔مگر خدا غضب میں دھیما ہے۔تو بہ کرو تا تم پر رحم کیا جائے۔جو خدا کو چھوڑتا ہے وہ ایک کیڑا ہے نہ کہ آدمی۔اور جو اُس سے نہیں ڈرتا وہ مردہ ہے نہ کہ زندہ۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ نمبر 268-269) اللہ تعالیٰ دنیا کو بھی عقل دے۔مکروہ اور ظالمانہ کاموں کے کرنے سے بچیں۔اور ہمیں بھی اللہ تعالیٰ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی توفیق عطا فرما تار ہے۔میں نماز جمعہ کے بعد دو جنازے غائب پڑھاؤں گا۔اس وقت دو شہداء کے جنازے ہیں۔پہلے شہید ہیں عزیزم نوید احمد صاحب ابن مکرم ثناء اللہ صاحب جن کو 14 ستمبر 2012ء کو کراچی میں شہید کر دیا گیا۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔نوید احمد صاحب ابن ثناء اللہ صاحب کے خاندان میں سب سے پہلے ان کے دادا عبد الکریم صاحب نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔بیعت سے پہلے آپ کا تعلق امرتسر سے تھا مگر بیعت کے بعد آپ کا زیادہ وقت قادیان میں ہی گزرا۔تقسیم کے بعد پاکستان میں آپ کا خاندان محمود آبادسندھ میں مقیم ہوا۔پھر 1985ء میں کراچی شفٹ ہو گئے۔عزیزم نوید احمد کے والد ثناء اللہ صاحب کو 1984ء میں اسیر راہ مولی رہنے کی بھی توفیق ملی۔واقعہ شہادت اس طرح ہے کہ 14 ستمبر 2012ء کو جمعہ کے دن عزیزم نوید احمد ولد ثناء اللہ صاحب جن کی عمر بائیس سال تھی، اپنے گھر واقعہ حمیر اٹاؤن حلقہ گلشن جامی کے سامنے اپنے دوغیر از جماعت پٹھان دوستوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ دو نامعلوم افراد موٹر سائیکل پر آئے اور 19