عشق رسول ﷺ کا صحیح اظہار — Page 7
(UNO) کے چارٹر میں یہ قانون ہے کہ کسی شخص کو یہ آزادی نہیں ہوگی کہ دوسرے کے مذہبی جذبات کو مجروح کرو۔یہ کہیں نہیں لکھا کہ دوسرے مذہب کے بزرگوں کا استہزاء کرنے کی اجازت نہیں ہوگی کہ اس سے دنیا کا امن برباد ہوتا ہے۔اس سے نفرتوں کے لاوے ابلتے ہیں۔اس سے قوموں اور مذہبوں کے درمیان خلیج وسیع ہوتی چلی جاتی ہے۔پس اگر قانون آزادی بنایا ہے تو ایک شخص کی آزادی کا قانون تو بیشک بنائیں لیکن دوسرے شخص کے جذبات سے کھیلنے کا قانون نہ بنائیں۔یو این او (UNO) بھی اس لئے نا کام ہو رہی ہے کہ یہ نا کام قانون بنا کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے بڑا کام کر لیا ہے۔اللہ تعالیٰ کا قانون دیکھیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ دوسروں کے بتوں کو بھی برا نہ کہو کہ اس سے معاشرے کا امن برباد ہوتا ہے۔تم بتوں کو برا کہو گے تو وہ نہ جانتے ہوئے تمہارے سب طاقتوں والے خدا کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کریں گے جس سے تمہارے دلوں میں رنج پیدا ہو گا۔دلوں کی کدورتیں بڑھیں گی۔لڑائیاں اور جھگڑے ہوں گے۔ملک میں فساد برپا ہوگا۔پس یہ خوبصورت تعلیم ہے جو اسلام کا خدا دیتا ہے، اس دنیا کا خدا دیتا ہے، اس کا ئنات کا خدا دیتا ہے۔وہ خدا یہ تعلیم دیتا ہے جس نے کامل تعلیم کے ساتھ اپنے حبیب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کی اصلاح کے لئے اور پیار ومحبت قائم کرنے کے لئے بھیجا ہے۔جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمت للعالمین کا لقب دے کر تمام مخلوق کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔پس دنیا کے پڑھے لکھے لوگ اور ارباب حکومت اور سیاستدان سوچیں کہ کیا ان چند بیہودہ لوگوں کو سختی سے نہ دبا کر آپ لوگ بھی اس مفسدہ کا حصہ تو نہیں بن رہے۔دنیا کے عوام الناس سوچیں کہ دوسروں کے مذہبی جذبات سے کھیل کر اور دنیا کے ان چند کیڑوں اور غلاظت میں ڈوبے ہوئے لوگوں کی ہاں میں ہاں ملا کر آپ بھی دنیا کے امن کی بربادی میں حصہ دار تو نہیں بن رہے؟ ہم احمدی مسلمان دنیا کی خدمت کے لئے کوئی بھی دقیقہ نہیں چھوڑتے۔امریکہ میں خون کی ضرورت پڑی۔گزشتہ سال ہم احمدیوں نے بارہ ہزار بوتلیں جمع کر کے دیں۔اس سال پھر وہ 7