عشق رسول ﷺ کا صحیح اظہار — Page 21
کے دیگر دو بھائیوں کی بھی بیعت ہوئی۔عمیر صدیقی اور رضوان صدیقی۔اس کے بعد بشمول والدین کے پورا خاندان بیعت کر کے جماعت میں شامل ہو گیا۔شہادت کا واقعہ اس طرح ہے کہ 15 ستمبر 2012ء کو ہفتہ کی رات تقریباً بارہ بجے عزیزم محمد امد صدیقی اپنے بہنوئی مکرم ملک شمس فخری صاحب کے ساتھ اپنے ڈیپارٹمنٹل سٹور ” السلام سپر سٹور واقع گلستان جوہر سے موٹر سائیکل پر نکلے۔ابھی کچھ ہی آگے گئے تھے کہ اُن پر شدید فائرنگ کی گئی جس سے دو گولیاں عزیزم محمد احمد صدیقی صاحب کولگیں جن میں سے ایک اُن کے دل پر جبکہ دوسری گولی اُن کے کولہے پرلگی اور آپ موقع پر ہی شہید ہو گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔جبکہ آپ کے بہنوئی مکرم شمس فخری صاحب کو اُن کے جسم کے پانچ مختلف حصوں پر پانچ گولیاں لگیں جن میں سے ایک اُن کے دائیں کندھے پر، ایک پیٹ میں اور باقی گولیاں ٹانگوں پر لگیں اور اس وقت آپ آغا خان ہسپتال میں داخل ہیں۔ان کی صحت یابی کے لئے دعا کریں اللہ تعالیٰ صحت کاملہ عاجلہ عطا فرمائے۔شہادت کے وقت شہید مرحوم کی عمر 23 سال تھی اور صرف ایک ہفتہ قبل اُن کا نکاح ہوا تھا۔شہید مرحوم نے گزشتہ سال ہی ایم بی اے امتحان پاس کیا تھا۔بہت شریف النفس، معصوم ، اطاعت گزار اور خوش اخلاق طبیعت کے مالک تھے۔کہتے ہیں کہ تیس سال کا نوجوان نہ صرف خوبصورت شکل وصورت کا مالک تھا بلکہ خوب سیرت بھی تھا۔ہر وقت چند دعا ئیں اپنے پاس لکھ کر رکھا کرتے تھے اور انہیں پڑھتے رہتے تھے۔اُن کے بھائی نے کہا کہ ہم میں سے سب سے قابل تھا۔7 ستمبر 2012 ء کو اس نے اپنے بعض دوستوں کو موبائل پر ایس ایم ایس کیا کہ کراچی کے حالات بہت خراب ہیں، اگر میں شہید ہو جاؤں تو میرے لئے دعا کرنا۔شہید مرحوم کی والدہ نے اس تکلیف دہ واقعہ کے وقت بتایا کہ تعزیت کے لئے آنے والی غیر احمدی رشتہ دارخواتین نے طنزیہ انداز میں کہا کہ آپ نے انجام دیکھ لیا۔اس پر شہید مرحوم کی والدہ نے انہیں جوابا کہا کہ ہم نے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر مسیح کو مانا ہے، ہم کسی سے نہیں ڈرتے۔میں جماعت کی خاطر اپنے نو (9) کے نو (9) بیٹوں کو قربان کرنے کے لئے تیار ہوں۔اللہ کے فضل سے شہید کے بھائی بہن سب حو صلے میں ہیں۔شہید مرحوم کے والد 21