ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 89
دنیا پر حکومت کرنا چاہتا ہے۔ہر چیز کو اپنے تصرف اور قابو میں لانے کی کوشش کرتا ہے جنگل کے جانوروں کو اُس نے قبضے میں کیا۔ہاتھی جیسے بڑے جانور کو پائوں کے انگوٹھے کے اشار ے کے ماتحت چلایا۔گھوڑے جیسے طاقتور جانور سے سواری کا کام لیا۔آگ اور پانی کو اپنے تصرف میں لاکر ریل بنائی۔جہاز چلائے۔اب ہوا میں اوپر ایرو پلین چل رہے ہیں۔پھر بس نہیں دن بدن آگے بڑھتا ہے نئی نئی چیزیں ایجاد کرتا ہے۔ایک کپڑے ہی کو دیکھو۔اس کو بنانے کے واسطے کیا کچھ عقل خرچ کی گئی ہے۔پُرانے کرگہ سے لے کر نئے ملوں تک اور پھر اُس کے آگے روز نئی ترقی ہے۔ایسے با خبر ہوشیار عاقل، فہیم، صاحب فراست کی روحانی ضروریات اور ترقیوں کے واسطے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف عطا کیا ہے۔قرآن شریف تمام اختلافات کو مٹانے کے واسطے آیا ہے مگر افسوس ہے کہ بعض لوگ بجائے اس کے کہ اس کتاب پر عمل کریں اور اُس کے ذریعہ سے اختلافات مٹائیں خود قرآن شریف کو نَعُوْذُبِاللّٰہِ۔نَعُوْذُبِاللّٰہِ۔نَعُوْذُبِاللّٰہِ موجب اختلاف بناتے ہیں اور خود اس میں بھی اختلاف نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔انسان میں قوت اور طاقت ادراک بہت ہے۔جس طرف اپنی طاقت کو چلائے اُسی طرف چلتا ہے اور ترقی کرتا ہے۔قرآن شریف کی طرف جو کچھ منسوب کیا جا رہا ہے وہ ممکن ہے کہ ایک حد تک درگزر کے قابل بھی ہو مگر بعض دفعہ بات اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ عقائد پر بھی حملہ کیا جاتا ہے۔میں نے اس امر کا ذکر اس واسطے کردیا ہے کہ تم اس درس کے سننے میں اس بات پر غور کرتے جائو کہ آیا قرآن شریف کہاں تک الجھاتا ہے یا سلجھاتا ہے۔مسلمانوں کے درمیان ایک جماعت ایسی بھی ہے جو وحدت وجود کی قائل ہے۔ان کے خیال میں ہم سب خدا ہیں یا ہر ذرہ خدا ہے۔بہت لوگ اس میں مبتلا ہیں۔بڑے بڑے دیندار اور دنیا دار بھی اس میں گرفتار ہیں۔سرسید کا بھی یہ مذہب تھا کہ سارا نیچر مل کر بحذ ف تشخصات خدا ہے۔ا ن خیالات کے لوگ عموماً بے باک ہوتے ہیں اور رفتہ رفتہ اباحت تک ان کی نوبت پہنچتی ہے۔بعض لوگ وہ ہیں جو ملائکہ اور شیطان کے وجود کے قائل نہیں۔صرف اپنے نفس کی ایک قوت کو