ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 88 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 88

خلیفۃ المسیح کی تمہیدی تقریر کو لکھتے ہیں جو کہ حضور نے اس درس کے شروع میں کی۔(ایڈیٹر) نوٹ۔اس درس میں سیپاروں کے نمبر اور سیپاروں کے رکوع کے نمبر دئیے جائیں گے۔یاد رہے کہ قرآن شریف پر رکوع کا نمبر رکوع کے خاتمہ پر دیا جاتا ہے، رکوع کے شروع میں نہیں دیا جاتا۔مثلاً جہاں قرآن شریف میں لکھا ہو گا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس جگہ سورۃ کا دوسرا رکوع ختم ہوا ہے ا ور سیپارے کا ساتواں رکوع ختم ہوا ہے اور اس رکوع میں چھ آیات پڑھی گئی ہیں۔’’ع ‘‘ کے درمیان کا نمبر تعداد آیت کا ہوتا ہے اوپر کا نمبر سورۃ کا ہوتا ہے اور نیچے کا نمبر سیپارے کا ہوتا ہے۔ا س بات کو اچھی طرح یاد رکھنا چاہئے۔بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ یہاں سے رکوع شروع ہوتا ہے۔یہ بات نہیں ہے بلکہ یہاں رکوع ختم ہوتا ہے۔۱؎ یہی وجہ ہے کہ پہلے ہی پارہ میں ۔کے حاشیہ پر کوئی علامت رکوع کی نہیں لگائی گئی ہے۔سب سے پہلا ’’ع ‘‘جو قرآن شریف کے حاشیہ پر لکھا گیا ہے وہ سورہ بقرہ کی ساتویں آیت کے خاتمہ پر لفظ عظیم کے بعد ہے۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ سورۂ بقرہ کا پہلا رکوع یہاں پورا ہوا اور پہلے پارہ کا پہلا رکوع یہاں پورا ہوا اور اس پہلے رکوع میں سات آیات ہیں۔رکوع شماری میں سورۂ الحمد کو پہلے پارے میں شمار نہیں کیا جاتا۔الفاظ کی تشریح میں رکوع کی آیات کا نمبر بھی دیا جائے گا تاکہ تلاش میں آسانی ہو۔……………………… یکم رمضان المبارک ۱۳۳۰ ھ عَلٰی صَاحِبِہَا التَّحِیَّۃُ وَالسَّلَامُ ۱۵؍اگست ۱۹۱۲ء بوقت صبح تقریری تمہید میں نے قرآن شریف کو بہت غور، فکر، تدبر اور توجہ سے پڑھا ہے۔ہمیشہ پڑھتا ہوںاور آج بھی بہت غور سے پڑھا ہے۔دعائیں کرتا ہوں اور سوچتا رہتا ہوں اور قرآن شریف کو پڑھتا ہوں۔انسان کو اللہ تعالیٰ نے اس قسم کا بنایا ہے اور اُس کے اندر ایسے قویٰ رکھ دئیے ہیں کہ وہ تمام