ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 81 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 81

جائز ہے۔نماز کا حکم نہیں اس لیے کہ نماز عظیم الشان چیز ہے۔حیض میں بدبو آتی ہے عورت ہاتھ، منہ، پاؤں نہیں دھوسکتی۔دماغ میں کمزوری آجاتی ہے۔فرشتوں سے ملاقات نہیں ہوسکتی اس لیے نماز نہیں پڑھنی۔دیکھو دوسرے مذاہب میں ایسی احتیاط ہے کہ عورت کے ہاتھ کا کھانا نہیں کھا سکتے مگر ہماری سرکار حضرت صلعم نے بہت بڑا احسان فرمایا کہ فرمایا قرآن متقی بناتا ہے تو سوائے خاص حالتوں کے قرآن پڑھنا پکڑنا جائز ہے۔نبی عربیؐ کے احسانات فرمایا۔دیکھو! تم پر نبی عربی صلعم نے کس قدر احسان کئے ہیں اور وہ کیسا جامع کمالات، رحمۃ للعالمین، خیرخواہ مخلوق تھا۔وہ عظیم الشان نبی اکرم کہ ہم کو کھانے کے، پینے کے، پہننے کے، اٹھنے کے، بیٹھنے کے، حتیٰ کہ پاخانہ، پیشاب کے آداب سکھائے اور دعائیں سکھلائیں۔ہرایک بستی میں داخل ہونے، سفر پر جانے کی ایسی ایسی بے نظیر دعائیں سکھلائیں کہ سبحان اللہ بے اختیار اس پیارے نبی پر درود پڑھنے اور دعائے رحمت مانگنے کو دل چاہتا ہے۔اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ۔نبی اور رسول کو پہچاننے کا معیار فرمایا۔نبی اور رسول لوگوں کو سچا پہچاننے کا پختہ معیار یہ جان لینا چاہیے کہ اوّل تو یہ لوگ اگلے نبیوں کی ہدایات پر قائم رہتے ہیں۔ان کی تعلیم ایک ہی ہوتی ہے یعنی خداوند کریم کو ایک مانو، اس کے احکام پر چلو۔دوم۔یہ لوگ مخلوق کے بہت خیرخواہ ہوتے ہیں۔کوئی انہیں ستائے، مارے، تکلیفیں دے مگر ان کے لیے دعائے نیک مانگتے ہیں۔ہاں کوئی سخت تکالیف دینے میں حد سے گزر جائے تو معاملہ اللہ پر چھوڑتے ہیں۔سوم۔اس شہر کے امیر لوگ ان کی پرواہ نہیں کرتے، غریب لوگ ساتھ دیتے ہیں۔اگر کوئی ایسا نہ ہو تو پھر اسے برخلاف جاننا چاہیے۔معنی پوچھنے میں حکمت فرمایا۔میں تم سے کسی لفظ کے معنی پوچھتا ہوں تو یہ مت سمجھو ہماری ہتک ہوتی ہے۔یہ نبی کریم صلعم کی بھی عادت تھی صحابہ کرام سے کبھی خوب سمجھانے کے لیے کچھ پوچھاکرتے۔سوائے عمل کچھ نہیں بنتا فرمایا۔ہم تو چاہتے ہیں اور تہ دل سے چاہتے ہیں تمہیں فہم قرآن