ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 58 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 58

جائز ہے خواہ گھوڑے کے روکنے میں چند قدم آگے پیچھے ہونا پڑے۔اس سے نماز میں کچھ ہرج نہیں۔احادیث میں یہ سب مذکور ہے۔(ماخوذ از المفتی۔البدر جلد۱۱ نمبر۳۲ مورخہ ۲۳؍ مئی ۱۹۱۲ء صفحہ۵) بنی اسرائیل کون ہے؟ فرمایا۔قرآن شریف میں جہاں اس قسم کے الفاظ آتے ہیں کہ مثلاً یَا بَنِیٓ اِسْرَآئِیْلَ۔اے بنی اسرائیل۔وہاں مخاطب کون ہے؟ کیا ہمارے قرآن سنانے کے وقت کوئی یہودی سامنے ہے یا کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس یہود جمع رہتے تھے؟ نہیں بلکہ وہاں تو اکثر صحابہ ہی جمع رہتے تھے۔پس ان الفاظ کے مخاطب بھی ہم ہی ہیں۔یہ بھی عرب میں بیان کا ایک طریقہ تھا۔شاعر کسی پڑوسن کا نام لے کرکچھ بات کرتا اور اصل مطلب محبوبہ کو مخاطب کرناہوتا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے صاف روایت ہے کہ مَضَوْا۔وہ قوم چلی گئی اب تم مراد رکھے گئے ہو۔اسرائیل کے معنے ہیں خدا کا بہادر سپاہی۔تم بہادر سپاہی کی اولاد ہو بہادر بنو۔ان نعمتوں کو یاد کرو جو خدا نے تم پر کیں۔خدا کے عہد کو پورا کرو۔مجھے تو ان آیات کو پڑھ کر بہت حیرانی اور دکھ ہوتا ہے کہ مسلمان ان کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔منکر کہو فرمایا۔ہمارے ملک میں کافر کا لفظ خاص بن گیا ہے اور لوگ اس سے بہت گھبراتے ہیں۔اگر منکر کا لفظ رکھو تو لوگوں کو دوبھر نہیں ہوتا۔علماء پر زکوٰۃ فرمایا۔علماء پر بھی زکوٰۃ واجب ہے جب ان کے پاس مال ہومگر ہم نے سوائے ایک کے کبھی کسی کو زکوٰۃ دیتے نہیں دیکھا۔فرمایا۔لکھنؤ میں ایک نمکین الدولہ ہوئے ہیں۔انہوں نے ظرافت پر ایک کتاب لکھی ہے۔ہمارے گھر میں بھی وہ کتاب تھی۔میں چھوٹی عمر میں ایک دفعہ اس کتاب کو لے کر اپنی مسجد میں چلا گیا۔وہاں ایک واعظ آئے ہوئے تھے۔جب انہوں نے وہ کتاب دیکھی تو بہت منت سماجت کی کہ یہ کتاب مجھے دے دو۔میں حیران ہوا کہ یہ تو واعظ ہیں یہ ایسی کتاب کیا کریں گے۔وہ کہنے لگے کہ وعظ کے واسطے دو باتیں ضروری ہیں۔مضحکات اور مبکیات۔کچھ ہنسانے والی باتیں کچھ رلادینے والی