ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 57
اس وقت میںتین نصیحتیں کرتا ہوں۔اوّل پڑوسیوں کو دکھ دینا ہماری شریعت میں جائز نہیں۔کسی ہمسا یہ کو کبھی دکھ نہ دو بلکہ اسے آرام پہنچاؤ۔میں نے سنا ہے کہ کوئی دو لڑکے مسجد میں کھیلتے تھے اور انہوں نے جوتا پھینکا جو ہندوؤں کے گھر میں جاپڑا اور انہیں تکلیف ہوئی۔ایسا نہیں ہونا چاہیے۔(۲) میری دوسری عرض یہ ہے کہ بچوں کو پیٹنا چھوڑ دو۔مدرسہ کے بعض استاد بچوں کو مارتے ہیں۔مجھے یہ خبر بہت دکھ دیتی ہے۔گورنمنٹ نے بھی اس بات سے منع کیا ہے۔صدر انجمن نے بھی قاعدہ بنایا ہوا ہے کہ کوئی استاد بچوں کو نہ مارا کرے۔میں بھی اس بات کو بہت برا سمجھتا ہوں اور بارہا کہہ چکا ہوں۔حضرت مرزا صاحب نے بھی سخت ممانعت کی تھی۔اس بدعادت کو چھوڑ دو۔تم بچوں کو مار کر بہشت میں نہیں پہنچادو گے۔(۳) تیسری بات یہ ہے کہ باہمی بدظنی نہ کیا کرو۔بدظنی سے ہمارے دل کو دکھ پہنچتا ہے جو بدظنی کو نہیں چھوڑ سکتا وہ اس شہر کو چھوڑ دے۔(ماخوذ از کلام امیر۔البدر جلد۱۱ نمبر۳۲ مورخہ ۲۳؍ مئی ۱۹۱۲ء صفحہ۳) ختم قرآن پر آمین ایک شخص کے دریافت کرنے پر کہ میری لڑکی نے قرآن ختم کیا ہے آمین کے متعلق شرعی احکام کیاہیں جو بجالائے جاویں؟ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ آمین صرف ایک خوشی کا اظہار ہے بقدر طاقت خود کرسکتے ہیں۔اس کے واسطے کوئی شرعی احکام نہیںہیں۔ننگے سر نماز جائز ہے فرمایا۔سر پر ٹوپی یا پگڑی نہ ہو تب بھی نماز جائز ہے۔یہ اس حدیث سے ثابت ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وبارک وسلم نے ایک صحابی کے نکاح کے وقت اس سے پوچھا کہ تیرے پاس کچھ ہے تو معلوم ہوا کہ اس کے پاس ٹوپی بھی نہ تھی اور وہ ننگے سر نماز پڑھتا تھا۔نماز میںچور کو پکڑو فرمایا۔اگر ایک شخص نماز پڑھتا ہو اور اسے معلوم ہوکہ کوئی شخص کچھ چرا لے جاتا ہے تو چاہیے کہ چور کو پکڑے اور اسے روکے۔اسی طرح گھوڑے کو پکڑے ہوئے نماز پڑھنا