ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 56
چاہئیں۔اس کے لیے اتنے ہزار چاہئیں۔میں کہتا ہوں کروڑ مانگتا ہے تو یہ بھی ضروری ہے۔(ماخوذ از ایک بیہودہ تجویز اخبارات سلسلہ کے متعلق۔الحکم جلد۱۶ نمبر۱۹ مؤرخہ ۲۱ ؍ مئی ۱۹۱۲ء صفحہ ۸) بسم اللہ و اٰمین جہراً اور آہستہ پڑھنا ۱۵ ؍مئی ۱۹۱۲ء۔فرمایا۔بسم اللہ جہراً اور آہستہ پڑھناہر دو طرح جائز ہے۔ہمارے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب (اَللّٰھُمَّ اغْفِرْہُ وَارْحَمْہُ) جوشیلی طبیعت رکھتے تھے بسم اللہ جہراً پڑھا کرتے تھے۔حضرت مرزا صاحبؑ جہراً نہ پڑھتے تھے۔ایسا ہی میں بھی آہستہ پڑھتا ہوں۔صحابہ میں ہردو قسم کے گروہ ہیں۔میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ کسی طرح کوئی پڑھے اس پر جھگڑا نہ کرو۔ایسا ہی آمین کا معاملہ ہے ہردو طرح جائز ہے۔بعض جگہ یہود اور عیسائیوں کو مسلمانوں کا آمین پڑھنا برا لگتا تھا تو صحابہ خوب اونچی پڑھتے تھے۔مجھے ہر دو طرح مزہ آتا ہے کوئی اونچا پڑھے یا آہستہ پڑھے۔سورۃ فاتحہ فرمایا۔سورہ فاتحہ کا پڑھنا ضروری ہے خواہ آدمی کے پیچھے ہو۔دن کی نمازوں میں یا رات کی نمازوں میں۔قرآن شریف کی کوئی آیت اس کے مخالف نہیں نہ کوئی حدیث اس کے مخالف ہے۔قرآنی ترتیب کا نمونہ فرمایا۔ہم نے تین دعائیں الحمد میں کی ہیں۔منعم علیہ بنیں۔مَغْضُوْب عَلَیْہِمْ اور ضَآلّ نہ بنیں۔ہرسہ خدا نے قبول کی ہیں۔انعام ان پر ہوا جو متقی ہیں۔مَغْضُوْب بے ایمان منکر ہیں جن کو وعظ کرنا نہ کرنا برابر ہو۔ضَآلِّیْنَ منافق لوگ ہیں۔ہرسہ کا ذکر اَلْحَمْد میں ہے۔پھر ترتیب وار ہرسہ کا ذکر سورہ بقرہ کے ابتدا میں ہے۔یہ قرآن شریف کی ترتیب کا ایک نمونہ ہے۔منافق فرمایا۔منافق دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک اعتقادی اور دوسرے عملی۔عملی منافق وہ ہیں جو غداری کرتے ، جھوٹ بولتے ، عشاو فجر کی نماز کے چور۔اس قسم کے لوگ عملی منافق ہیں۔تین نصیحتیں مسجد اقصیٰ میں جہاں سب لوگ جمع تھے جماعت کو مخاطب کرکے فرمایا۔