ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 489
افادات بخاری (حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ کے درس کی روشنی میں ) میںجب حضرت خلیفۃ المسیح اوّل رضی اللہ عنہ سے بخاری پڑھتا تھاتو میرا معمول تھا کہ میں ان کے درس کے نوٹ لکھا کرتا اور میں نے ہی خدا کے محض فضل سے سب سے اوّل قرآن مجید کے درس کے نوٹوں کی اشاعت کا انتظام کیا۔پھر حضرت حکیم الامت رضی اللہ عنہ کی خواہش کے ماتحت قرآن مجید کی تفسیر کا پہلا پارہ شائع کیا۔اس وقت حضرت حکیم الامت فرماتے تھے کہ اگر سورہ فاتحہ بھی شائع ہوجائے تو یہ بڑا کام ہے مگر خدا تعالیٰ نے مجھے توفیق دی کہ پہلا پارہ تفسیر القرآن کے طور پر اور پھر متعدد پارے ترجمۃ القرآن اور حواشی کے ساتھ شائع کرسکا۔اسی طرح جب میں بخاری کے درس میں شریک ہوتا تو میں نوٹ لکھتا تھا۔ایک مرتبہ حضرت حکیم الامت نے فرمایا کہ اگر اس کے نوٹ بھی شائع ہوجائیں تو بہت اچھا ہے۔میں نے آپ کے اس ارشاد کی تعمیل میں بخاری پر نوٹ درست کرنے شروع کردئیے اور اپنے رنگ میں ان کو مرتب کیا اور حضرت حکیم الامت نے ان کو دیکھا اور اپنے قلم سے اس کے مسودہ کو درست کیا۔اسی طرح بعض دوسری کتابوں پر بھی مجھ سے نوٹ لکھوائے اور ان کے مسودے درست کئے۔ان میں سے ایک فوز الکبیر کا اردو ترجمہ مع نوٹوں کے ہے۔اس قسم کے مسودات کے لئے میرا خیال تھا کہ ان کو کسی وقت کتابی شکل میں شائع کیا جائے لیکن خدا تعالیٰ کی مشیت نے اب تک مجھے موقع نہ دیا اور اب جبکہ عمر کا آخری حصہ ہے میں نہیں کہہ سکتا کہ ایسا ہو گایا نہیں۔اس لئے میں نے پسند کیا ہے کہ وقتاً فوقتاً انہیں الحکم کے ذریعے شائع کرتا رہوں تا کہ بجائے بستوں میں بند رہنے کے لوگوں کو نفع پہنچے۔میں ان نوٹوں کے متعلق یہ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا اور جہاں مناسب سمجھا اصلاح کی باایں مجھے اپنی کمزوری اور بے بضاعتی کا اعتراف ہے۔میں غالباً ان نوٹوں کے سلسلہ میں کوئی خاص ترتیب زیر نظر نہیں رکھوں گا۔یہ ممکن ہے کہ بعد میں کوئی سلسلہ ترتیب کا بھی پیدا ہوجائے۔حضرت ڈاکٹر مفتی محمد صادق صاحب نے ایام ادارت بدر میں بخاری شریف پر نوٹوں کا بھی ایک سلسلہ شروع کیا تھا وہ بہت مختصر تھا لیکن میں نے جس رنگ میں یہ نوٹ لکھے تھے وہ کسی قدر بسط کو لئے ہوئے تھے۔