ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 488
دیر میں وہ سب چُرا لے۔اب جب <mark>اس</mark> کا ہاتھ کاٹا جائے گا تو دیکھنے والے کہیں گے کہ رحم کرنا تھا ہاتھ کاٹنا نہ چاہیے تھا <mark>اس</mark> کو کیا <mark>معلوم</mark> کہ ساری عمر کی کمائی تھی۔<mark>اس</mark>ی طرح اگر نبی کریمؐ ان اونٹوں کو چھوڑ دیتے اور صحابہ کے قتل کرنے والوں کو قتل نہ کرتے تو اور عرب لوگ آکر آپ کے صحابہ کو <mark>اس</mark>ی طرح قتل کرتے۔سُمِرَتْ اَعْیُنُہُمْ۔ان کی آنکھیں پھوڑی گئیں کیونکہ انہوں نے بھی چرواہے کی آنکھیں پھوڑی تھیں اور <mark>اس</mark>ی طرح بے رحمی سے مارا تھا۔دوسرے احسان کا بدلہ یہ کیا کہ اونٹ ہی لے بھاگے۔جس رکابی میں کھائیں <mark>اس</mark>ی میں چھید کریں۔ایسے بدمعاشوں کو سخت سزا دینا یہی حکمت اور دانائی اور دوسرے بندگان خدا پر رحم ہے۶؎۔