ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 487
لیٹ کر سو جانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور شکلوں پر سوجانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔امام بخاریؒ کا مذہب یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ نیند سے وضو ٹوٹ جاتا ہے مگر ایک دوبار اونگھنے سے یا جھونکا لگنے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔اونگھ یہی ہے کہ آدمی اپنے پاس والے کی بات سنے لیکن مطلب نہ سمجھے اور جب اس سے زیادہ غفلت ہو تو وہ نیند ہے۔ایڈیٹر) باب ۵۵ یہ گناہ ہے کہ ۱۔لوگوں کے سامنے ننگے ہو کر پیشاب کرنا۔۲۔پیشاب کی چھینٹوں سے پرہیز نہ کرے۔بَوْلِہٖ۔بخاری صاحب استدلال نکالتے ہیں کہ بَوْلِہٖ کے لفظ سے پایا جاتا ہے کہ انسان ہی کے پیشاب کے متعلق ہے۔جانوروں کے پیشاب کا ذکر نہیں۔باب ۶۰ سوال۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہوکر پیشاب کرنے سے منع فرمایا اور آپ نے کھڑے ہوکر پیشاب کیا ؟ جواب۔علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ کھڑے ہوکر پیشاب کرنا جائز ہے یا نہیں؟ بخاری میں تو یہ لکھا ہے کہ آپ نے کھڑے ہوکر پیشاب کیا لیکن کھڑے ہوکر پیشاب کرنے سے ممانعت بخاری میں نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ وہ حدیث ممانعت کی جو دوسری کتاب میں ہے ضعیف ہے لیکن یہ بھی لکھا ہے کہ جب کھڑے ہو کر پیشاب کیا اس روز آپ کے گھٹنے میں درد تھا نیز حالات اور ضروریات احکام کو بدل دیتے ہیں۔باب ۶۶ اونٹ کا پیشاب امام بخاری صاحب کے نزدیک پلید نہیں پاک ہوتا ہے۔میرابھی یہی اعتقاد ہے۔اسی طرح بھیڑ بکری وغیرہ کا۔یہ قاعدہ ہوتا ہے کہ جب کسی کو سزا دی جاتی ہے تو خواہ مخواہ دیکھنے والوں کو رحم آتا ہے اور گناہ کے ارتکاب کے وقت وہ موجود نہیں ہوتے۔مثلاً ایک شخص نے ساری عمر میں محنت کر کے سو روپیہ کمائے اور ایک بدمعاش تھوڑی سی