ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 486 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 486

امام بخاری صاحبؓ کا مذہب ہے کہ دونوں طرح جائز ہے۔وضو میں ایک ایک دفعہ بھی، دو دو دفعہ بھی، تین تین دفعہ بھی۔اعضاء کا دھونا جائز ہے۔ہر سہ حالتوں میں وضو ہوجاتا ہے۔باب ۴۳ میاں بی بی ایک ہی برتن سے پانی لے لے کر وضو کریں تو یہ ایک محبت کا نشان ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس طرح مل کر وضو کرلیا کرتے تھے۔باب ۴۷ مُدٌّ۔ایک مُدّ یعنی بک سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا وضو کر لیا تھا اور غسل پانچ بک ہے۔(بک دونوں ہتھیلیوں کو جوڑ کر اس کے اندر جو پانی آجائے۔) باب ۴۸ شیعہ اور خوارج موزے پر مسح نہیں کرتے اس واسطے امام بخاری صاحب نے یہ باب باندھا ہے۔مسئلہ سر پر عمامہ (پگڑی) ہو تو عمامہ اتار کر مسح کرے یا تھوڑا سا عمامہ پیچھے کرکے مسح کرے یا عمامہ کے اوپر سے ہی مسح کرے۔تینوں طرح جائز ہے اور یہ امر حدیثوں سے خوب ثابت ہے۔باب ۵۲ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دودھ پیا اور خوب کلی کی اور پھر فرمایا کہ یہ چکنی چیز ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ ہر چکنی چیز کھانے کے بعد کلی کرنی چاہیے۔دیکھا گیا ہے کہ بعض اوقات کیڑے منہ میں آجاتے ہیں۔باب ۵۳ کوئی نماز پڑھتا ہو اور اس کو اونگھ آتی ہو تو اس کو سو جانا چاہیے۔اس کا مطلب ہے کہ نماز کو خوب سوچ سوچ کر پڑھو۔میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم نماز کے معنے ضرور ضرور ضرور پڑھو۔نماز بے ہوشی میں انسان نہ پڑھے کیونکہ ایسا نہ ہو مَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ کی جگہ کہہ بیٹھے کہ مَا اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔فائدہ (نیند سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں ٹوٹتا ؟ اس میںعلماء کا اختلاف ہے۔امام ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ جو کوئی نماز میں کھڑے کھڑے یا سجدے میں سوجائے تو اس کا وضو نہ ٹوٹے گا۔البتہ اگر لیٹ کر سوجائے یا ٹیکا دے کر تو وضو ٹوٹ جائے گا۔اہل حدیث نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے کہ