ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 446
دوسرے اشجار خبیثہ ہیں۔میرا مذہب یہ ہے کہ ایمان کی اصطلاح چار طریقوں سے ہوسکتی ہے۔۱۔ایک ایمان وہ ہے جس پر احکام دنیا کے مرتب ہوتے ہیں۔وہ اعمال ظاہرہ ہیں۔شہادتیں، نماز، روزہ ، زکوٰۃ حج اور اکل ذبیحہ وغیرہ۔۲۔دوسرے رنگ میں ایمان وہ چیز ہے جس پر نجات اخرویہ کا مدار ہے۔وہ ایمان ضروریات دین پر۔۳۔تیسری اصطلاح عقائد صحیحہ کا نام ایمان ہے۔۴۔چوتھی اصطلاح عقائد صحیحہ اور اعمال صالحہ کا نام ایمان ہے۔ایمان کے ۷۷ شعبے ہیں جو ذیل میں لکھے جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور یقین کرنا کہ وہ ایک ہے کوئی اس کی مثل نہیں تمام عیبوں سے پاک ہے۔تمام محامد کاملہ سے موصوف ہے۔سب کا ربّ، رحمن، رحیم، وحدہٗ لا شریک ہے۔اس کے ملائکہ پر ایمان لانا کہ جب وہ دلوں میں نیکی کی تحریک کریں تو اس پر عمل کرے۔اور مختلف کاموں پر وہ متعین ہیں، اس کی کتابوں پر ایمان لانا، اس کے انبیاء پر ایمان لانا اور اس بات پر کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ السلام خاتم النبیین ہیں، تقدیر پر ایمان لانا کہ ہر ایک چیز کے لئے ایک اندازہ ہے اور اس کی مقدار ہے۔پس جیسا کوئی کرے گا ویسا پھل پائے گا اور اللہ تعالیٰ کے علم میں سب چیزیں موجود ہیں اور اللہ تعالیٰ کو تمام اشیاء اور واقعات قبل از وقوع کا علم تھا۔بعث بعد الموت پر ایمان لانا، جزاء و سزا پر ایمان لانا، جنت اور دوزخ پر ایمان لانا، اللہ تعالیٰ سے محبت کرنا اور اللہ تعالیٰ کی خاطر اوروں سے محبت کرنا اور اللہ تعالیٰ کی خاطر کسی سے بغض کرنا، حبّ رسول اور اخلاص، توبہ، خوف، امید، نا امیدی کا ترک، شکر، وفاء ، صبر، تواضع، شفقت علیٰ خلق اللہ، رضا، توکل، ترک، عجب اور حسد اور کینہ اور بے محل غضب، شیخی اور گھمنڈ کا ترک کرنا، اخلاق فاضلہ کا پابند ہونا، برائیوں سے بچنا، بڑوں کا ادب اور چھوٹوں پر رحم کرنا۔