ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 445
کتاب الایمان باب۱۔بنائے اسلام قَوْل۔منہ سے کہنا۔(الفتح :۵)۔اس سے ظاہر کہ ایمان ترقی کرتا ہے۔شَرَائِعُ۔شِرْعَۃٌ۔ابتدائی باتیں۔شریعت کی۔منہاج۔ابتدا کے بعد آئندہ تک کی باتیں۔یَقِیْن۔ایمان کا نام ہے اور یقین بھی ترقی کرتا ہے۔ایمان کی تعریف میں بہت کچھ جھگڑا ہوا ہے اور سننے والے ضرور تعجب کریں گے کیونکہ دراصل یہ کوئی مشکل بات نہیں۔مگر جوبات ملاں لوگوں کے ہاتھ میں آجاتی ہے اس میں ایک دوسرے سے ہار جیت اور اس سے بڑھنے کا خیال بہت کچھ جھگڑے پیدا کردیتا ہے اور خواہ مخواہ موشگافیاں کی جاتی ہیں۔کیا کوئی تاریخ و حدیث اور آثار صحابہ سے دکھا سکتا ہے کہ اس وقت بھی یہ جھگڑے ہوئے تھے؟ حنفی علماء کا یہ مذہب ہے کہ ایمان نہ بڑھتا ہے اور نہ گھٹتا ہے اور سب کا ایمان ایک جیسا ہوتا ہے اور کفر ایک جیسا ہوتا ہے اور عمل مطلق ایمان کا جزو نہیں۔اس سے یہ نقص پیدا ہوا کہ لوگوں نے نجات کے لئے صرف ایمان کو ضروری سمجھ کر اعمال آخر آکر چھوڑ دئیے۔ہمارے زمانہ میں بے باک بھی موجود ہوگئے۔سلاطین عباسیہ کے آخر وقت میں یہ مصیبت مسلمانوں پر آئی۔امام بخاری نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ایمان اور کفر دونوں بڑھتے اور کم ہوتے ہیں اور ان کے درجات ہوتے ہیں اور یہ کہ ایمان میںعمل بھی شامل ہیں اور جہاں ایمان کے ساتھ عمل کا ذکر آیا ہے وہاں یہ مطلب نہیں کہ ایمان صرف اعتقاد کو کہا ہے بلکہ ایمان کی تصریح کردی ہے کیونکہ دوسری جگہوں میں اعمال پر ایمان کا لفظ بولا گیا ہے۔ایمان کی مثال اور کفر کی مثال ایک درخت کی سی ہے جو بڑھتا اور کم ہوتا ہے۔چھوٹے درخت کو بھی درخت اور بڑے درخت کو بھی درخت ہی کہتے ہیں۔ایمان و کفر ، شرک و ظلم و فسق سب درخت کی مثال میں آجاتے ہیں۔ایک شجرہ طیبہ