ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 443
دیانند اور حضرت مرزا صاحب۔پہلے چاروں میں سے کوئی مکالمہ الٰہیہ کا مدعی نہ بنا۔سید احمد خان اور کیشب چندر سین صرف ایسے الہام کے قائل تھے کہ دل میں کوئی بات آجاوے۔انبیاء کی طرح وہ مکالمہ و مخاطبہ الٰہیہ سے آگاہ نہ تھے۔ہاں مرزا صاحب نے ایسا دعویٰ کیا اور پہلے ہر چہار کے لیکچروں کو رونق دینے والے اور ان کی پارٹی میں شامل ہونے والے بڑے بڑے امراء اور کبراء ہوئے ہیں مگر مرزا صاحب کو ماننے والے ابتدا میں غرباء اورضعیف لوگ ہیں۔یہ بھی ایک نشان اس شخص کا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہوکر خلقت کی اصلاح کے لئے آتا ہے۔۱؎ نصیحت اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بن جائو۔کبھی روپے کو مت ڈھونڈو۔اللہ تعالیٰ کے راضی کرنے کی سعی کرو اسی میں سب کچھ آجائے گا۔اپنے معاملات میں تحریر کرلیا کرو۔اگلے دن ایک عورت نے مجھے سنایا کہ ہم نے بیس روپے ایک شخص کو دئیے تھے وہ اب ہم کو آدھے روپے دیتا ہے آدھے کے متعلق کہتا ہے کہ آگے دے چکا ہوں مگر ہم کو کوئی نہیں ملے۔اگر مطابق حکم شریعت لینے اور دینے کی رسید لکھی ہوئی ہوتی تو کیوں اتنی دقت ہوتی۔وَکَذَالِکَ الرُّسُلُ۔رسول ایسے ہوتے ہیں۔ہرقل نے تسلیم کیا کہ رسولوں کی یہی علامات ہیں۔عَفَاف۔بدیوں سے بچنے کا حکم کرتا ہے۔اِبْنُ اَبِیْ کَبْشَۃَ۔ایک شخص تھا جو دیووں کی کہانیاں کہا کرتا تھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار طعن کے طور پر اس نام سے یاد کرتے تھے۔سَیَمْلِکُ۔بادشاہ بن جائے گا۔آپ کے خلفاء اس ملک کے بادشاہ ہوئے۔عَظِیْمُ بُصْریٰ۔ایک شہر بصرہ ہے وہ اور ہے یہ بصریٰ (بضمہ با) اور شہر ہے۔خَبِیْث۔ُ النَّفْسِ۔سُست۔رنجیدہ خاطر۔فِیْ دَسْکَرَۃٍ۔ایک بڑے عالی شان مکان میں ان کو جمع کیا۔