ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 442
سخاوت کرتے تھے۔نصیحت حضرت جبرائیل قرآن شریف کا دور رمضان میں کیا کرتے تھے۔میں آپ لوگوںکو نصیحت کرتا ہوں کہ ہر رمضان شریف میں قرآن مجید کا دور خصوصیت سے کیا کریں۔باب۶ تِجَارًا۔تاجر کی جمع ہے۔مَادَّ فِیْھَا اَبَا سُفْیَانَ۔ابو سفیان کو بڑا زمانہ ہوگیا تھا۔کیا مطلب ؟ انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملے ہوئے اور انہیں دیکھے ہوئے بہت مدت گزری تھی۔ان کو کیا خبر باقی رہی تھی کہ آپ کا کیا حال ہے۔اِیْلِیَاء۔بیت المقدس کو کہتے ہیں۔عبرانی زبان میں اسے بیت ایل کہتے ہیں۔ایل عبرانی میں خدا کو کہتے ہیں۔ذُوْنَسَبٍ۔شریف آدمی۔عظیم الشان نسل کا ہے۔نکتہ بخاری صاحب نے اس جگہ ابوسفیان کی روایت کو حضرت ابن عباس سے بیان کیا ہے۔ابن عباس بالاجماع اہل بیت سے ہیں اور ہاشمی ہیں۔ان کا ابوسفیان سے روایت لینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ سچائی کی بات کہیں ہو لے لینی چاہیے۔کَلِمَۃُ الْحِکْمَۃِ ضَآلَّۃُ الْمُؤْمِنِ۔امام بخاری نے اہل بیت میں بیبیوں کو بھی رکھا ہے اور ابن عباس کو بھی رکھا ہے۔ابوسفیان کی روایت میں یہ لطیفہ ہے کہ سچائی کے لینے کے وقت مخالفت موافقت کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔گویا اس امر کو ظاہر کردیا ہے کہ روایت لینے میں کسی کی دوستی دشمنی کا خیال نہیں کرنا چاہیے۔جہاں سے اچھی بات مل جائے لے لینی چاہیے۔پھر ہرقل کی نجوم کی بات کا بھی ذکر کردیا ہے اس سے یہ فائدہ حاصل کرنا چاہیے کہ انسان تنگ دلی اختیار نہ کرے۔اوّلین سابقین کون ہوتے ہیں؟ ہرقل کا یہ سوال کہ اس نبی کو ماننے والے ضعیف لوگ ہیں یا کبراء، ایک بہت مفید علم اپنے اندر رکھتا ہے۔ہمارے زمانہ میں پانچ شخص ہندوستان میں مصلح یا لیڈر ہونے کے مدعی ہوئے ہیں۔رائے رام، موہن رائے، کیشب چندر سین، سرسید احمد،