ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 434
’’میں نے جامع صحیح میں جو حدیثیں درج کی ہیں ان کو چھ لاکھ حدیثوں سے انتخاب کیا ہے۔اور کوئی حدیث اس کتاب میں داخل نہیں کی جب تک کہ پہلے دورکعت نماز نہ پڑھی ہو اور استخارہ نہ کر لیا ہو اور مجھے اس کی صحت پر یقین نہ ہوگیا ہو۔‘‘ یہ کتاب سولہ سالوں میں جمع ہوئی تھی اور علماء نے اسے اَصَحُّ الْکُتُبِ بَعْدَ کِتَابِ اللّٰہِ کہا ہے۔امام بخاری علیہ الرحمۃ کو اس کتاب کے اعتبار کا قائم رکھنا ایسا عزیر تھاکہ ایک دفعہ کشتی میں سوار کسی سفر میں تھے اور آپ کے پاس ایک تھیلی ایک ہزار اشرفی کی تھی۔ایک بدمعاش نے اسے معلوم کرکے مشہور کردیا کہ میرے پاس ایک تھیلی ہزار اشرفی کی تھی کسی نے چوری کرلی ہے۔کشتی کے افسر کے پاس فریاد پہنچی۔اس نے سب کی تلاشی لینی شروع کی۔اس بات کو دیکھ کر امام بخاری علیہ الرحمۃ نے وہ تھیلی اشرفیوں کی جو ان کے پاس تھی چپکے سے دریا میں پھینک دی۔سب کی تلاشی ہوئی اور ان کی بھی ہوئی کہیں تھیلی نہ نکلی۔چند روز کے بعد اس بدمعاش نے علیحدگی میں آپ کے ساتھ ذکر کیا کہ آپ کے پاس تو تھیلی تھی میں نے پہلے دیکھی تھی تلاشی کے وقت وہ کہاں گئی۔انہوں نے فرمایا کہ میں حدیث کی کتاب جمع کر رہا ہوں۔میں نے سوچا کہ میری تھیلی نکلی تو ایک جھگڑا پڑے گا بعض کے نزدیک بات شبہ میں پڑجائے گی اوراس کا اثر میری کتاب کی صحت کے اعتبار پر پڑے گا۔اس واسطے میں نے کتاب حدیث کی خاطر ہزار اشرفی کو قربان کیا اور اتنا بھی پسند نہ کیا کہ چوری کا مجھ پر جھوٹا شبہ ہو۔سبحان اللہ کیا پاک لوگ تھے۔دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا کیسا اعلیٰ نمونہ ہے۔تمام مقدس اور نیک لوگوں کا جو ورثہ ہے کہ ان کو دنیا داروں سے دکھ پہنچتے ہیں۔سو یہ حصہ بھی امام بخاری علیہ الرحمۃ کو ملا۔یہا ں تک کہ حاکم وقت نے آپ کو بخارا سے نکلوا دیا یا خود اس کے شر کے خوف سے نکل آئے اور اپنے وطن کو چھوڑ کر ہجرت کی اور آپ کی وفات بھی باہر ہی ہوئی۔