ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 433 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 433

سوانح حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ درس بخاری شریف کے نوٹوں کے شروع کرنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مؤلف کتاب حضرت امام بخاری علیہ الرحمۃ کے کچھ حالات اختصاراً لکھے جائیں۔یہ بزرگ بخارا کے رہنے والے تھے اس واسطے بخارا کے نام کو مشہور کر گئے اور بخاری کہلائے۔نیک لوگوں کے وجود کی برکت سے ان کا مسکن بھی دنیا میں مشہور ہوجاتا ہے۔آج سے تیس۳۰ سال قبل قادیان کو کون جانتا تھا لیکن اس وقت آسٹریلیا اور امریکہ تک کے لوگ قادیان سے واقف ہورہے ہیں۔ملک جرمن میں ایک کتاب چھپی ہے اس میں بھی قادیان اور نبی قادیان کا تذکرہ خصوصیت سے کیا گیا ہے۔امام بخاری صاحب کا نام تھا محمد۔آپ کے باپ کا نام اسماعیل۔کنیت ابو عبد اللہ۔پس آپ کا پورا نام اس طرح ہے۔ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بن ابراہیم ابن المغیرہ۔مغیرہ مسلمان ہوئے تھے یمان جعفی کے ہاتھ پر۔آپ کی پیدائش ۱۳؍ شوال ۱۹۴ھ میں ہوئی۔حضرت بخاری صغیر سن تھے جبکہ آپ کے والد مرحوم فوت ہوئے اور آپ نے اپنی ماں اور اپنے بھائی احمد کے ساتھ چھوٹی عمر میں حج کیااور مکہ معظمہ میں رہ کر علم حاصل کیا۔بچپن ہی سے آپ کا حافظہ بہت قوی تھا۔اکثر حدیثیںخوب یاد رہتی تھیں۔اٹھارہ سال کی عمر میں آپ نے کتاب قضایائے صحابہ اور تابعین تصنیف کی۔پھر تاریخ تصنیف کی۔شام، مصر ،جزیرہ اور بصرہ کی آپ نے سیر کی۔حـجاز میں چھ سال رہے۔کوفہ اور بغداد کو کئی بار گئے اور وہاں کے مشائخ سے فیض حاصل کرتے رہے۔احادیث کے جمع کرنے اس کے سننے پڑھنے اور پڑھانے میں ساری عمر گزار دی۔۲۵۶ھ میں آپ کی وفات ہوئی۔رَحِمَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی وَ غَفَرَ لَہٗ۔کتاب حدیث کے جمع کرنے میں امام بخاری نے بہت ہی احتیاط سے ایسے کام کیا۔فربری سے روایت ہے۔امام بخاری علیہ الرحمۃفرمایا کرتے تھے۔