ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 431
انسان، جمادات، نباتات، حیوانات کی طرح بے فکر روٹی کھانے والا نہیں بنایا گیا۔فکر۔فکر۔فکر۔غور۔غور۔غور کرو۔۲۴؍ اپریل مٹی کا برتن ٹوٹنے سے جتنا رنج ہوتا ہے اس کا عشر عشیر ارتکاب معاصی سے نہیں ہوتا۔کتابیں اگر وہ کشش نہ پیدا کریں جو نیچر سے پیدا ہوتی ہے تو نقص نہیں۔لَارَیْبَ فِیْہِ سے ثابت ہوتا ہے کہ اور دلائل میں ریب تھا۔(ماہنامہ خالد جنوری ۱۹۶۱ء صفحہ ۹) حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کا ایک نصیحت آموز خط مندرجہ ذیل خط حضرت مولانا نور الدین (خلیفۃ المسیح اوّلؓ) نے یکم جولائی ۱۹۰۴ء کو مکرم قاضی محمدیوسف صاحب ہوتی مردان کے نام رقم فرمایا تھا جو ان دنوں مدرسہ اسلامیہ پشاور کی فورتھ ہائی کلاس میں تعلیم پا رہے تھے۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اپنے ہر کام میں غور کر لیا کرو کہ آیا اس کام میں ہر ایک پہلو میں تعظیم الٰہی یا شفقت علیٰ (خلق) اللہ ہے یا نہیں۔ہر وہ کام کرو جس میں تعظیم الٰہی ہو یا شفقت علیٰ خلق اللہ یا یوں سوچ لو کہ اس کام میں میرے مولا ربّ العالمین کی پروانگی ہے یا نہیں۔جس کام میں اجازت ہے وہ کرو اور جس میں ممانعت ہے اس کو مت کرو اور جس میںجناب الٰہی کا سکوت ہے اس میں روک نہیں۔اور اس علم کے حاصل کرنے کے لئے تلاوت قرآن مجید ضروری ہے۔نور الدین یکم جولائی ۱۹۰۴ء (ماہنامہ خالد اپریل ۱۹۶۱ء صفحہ۶)