ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 430 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 430

کچھ روپیہ مارلایا ہے اور حلوے اور پلاؤ پکوا کر کھا رہا ہے۔میں نے کہا کہ تم نے بھی کچھ اڑائے۔اس نے کہا کہ مشکل سے چالیس روپے میں نے بھی چھینے ہیں باقی وہ سب کچھ کھاگیا ہے۔میں نے کہا کہ وہ چالیس روپے کہاں ہیں۔اس نے کہا کہ ایک جگہ دبا کر رکھے ہوئے ہیں۔میں نے کہا کہ وہ نکال کر ہمارے پاس لے آنا اور اپنے خاوند کو بھی لانا۔بہت دیر کے بعد وہ عورت واپس آئی اور کہنے لگی کہ وہ روپے بھی وہ کسی طرح سے نکال کر لے گیا ہے۔(فاروق جلد ۲۵ نمبر ۳۵ مورخہ ۱۴؍ ستمبر ۱۹۴۰ء صفحہ ۹) اطباء کے لئے چند ضروری ہدایات حضرت خلیفۃ المسیح اوّل ؓ کی مندرجہ ذیل اہم یادداشت آپ کی ذاتی نوٹ بک سے ماخوذ ہے جو اس وقت مکرم عبد الرحمن صاحب شاکر کے پاس موجود ہے۔انشاء اللہ ’’خالد‘‘ آئندہ بھی اس روحانی خزانے کے جستہ جستہ حصے منظر عام پر لائے گا۔ہم جناب شاکر صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ ان کے ذریعہ سے ہمیں حضرت خلیفۃ اوّل ؓ کا یہ تبرک حاصل ہوا ہے۔فَجَزَاھُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی(ادارہ) طب میں اضطراب ، دعا ،توجہ الی اللہ تعالیٰ، اخلاص، تضرع اور اپنی کم علمی، کم فہمی سمجھنے کا خوب موقع ملتا ہے۔پھراس لئے علاج کی جستجو میں الہام بھی ہوجاتا ہے اگر تقویٰ، رحم ، فکر، اسباب و علامات کی جستجو جو ہزاری ہیںساتھ مل جاویں تو موجب نجات ہیں اور ایک ہی علاج دین میں اور ایک ہی دنیا کے لئے کفایت کرجاتا ہے(اُذْکُرْ قِصَّۃَ بَغِیَّۃٍ اَشْرَبَتْ کَلْبًا) قرآن کریم نے اس علم کے اصول پر علماً اور خاتم الانبیاء نے عملاً توجہ دلائی۔بڑے بڑے ڈاکٹروں میںمعالج بننا معیوب نہیں۔وہ خود پسندی کے باعث۔۔۔۔اور منکسر، متوجہ الی اللہ آگے نکل جاتا ہے۔طب ہر دل عزیزی کا بڑا موجب ہے( اس پر درد سر والے کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔کا قصہ فرمایا) ادیب نہ ہو تو کتنا حرج مگرطبیب نہ ہو تو کتنا حرج موجود ہے۔طبیب اگر کامیابی تک نہ پہنچے تومت گھبرا وے۔کیونکہ طبیب کا کام تقدیر کا مقابلہ کرنا نہیں بلکہ طبیب(کا کام) بہت ہمدردی اورغمخواری۔