ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 429
اس لئے آپ کو جلدی نہیںکرنی چاہیے۔دیکھو مسجد میں دوڑ کرجانا منع ہے ادب سے جانا چاہیے۔آئے ہو ٹھہرو، جمعہ پڑھو، بیعت بھی ہوجائے گی۔(۵)ایک نومسلم کے مرتد ہونے کا خط اور آپ کا جواب ۴ ؍ اپریل ۱۹۱۲ء کو فرمایا۔گجرات کے ضلع میں ایک گاؤں لنڈپور نام ہے۔وہاں کا ایک ہندو نوجوان لڑکا تھا وہ ہندو سے مسلمان ہوا۔اس کی تعلیم پر کئی ہزار روپیہ خرچ کیا۔مجھے اس نے کشمیر خط لکھا کہ میں اب گنگا جی جاتا ہوں تا کہ اسلام کے ناپاک مذہب سے صاف ہوجاؤں۔یہ ایک فطری بات ہے کہ انسان کو ایسی بات سے تکلیف ہوتی ہے۔مجھے بھی تکلیف ہوئی مگر میں اللہ کی طرف متوجہ ہوا کہ الٰہی میں اس کو جواب دینا چاہتا ہوں اور ایک ہی کارڈ بھیجنا چاہتاہوں۔چنانچہ جواب میرے دل میں ڈالا گیا اور میں نے یہ آیت لکھی (المائدۃ: ۵۵)اللہ فرماتا ہے کہ اگر ایک مرتد ہوجاوے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں ایک قوم دے دیتا ہے۔میں نے اسے لکھا کہ تمہارا خوشی کا بھر اہوا خط مجھے ملا جس سے مجھے یہ خوشی کی خبر ملی ہے کہ خدا اس ایک کے بدلے ہمیں ایک ایسی قوم دے گا جو کی مصداق ہوگی۔اس وقت میں نہ پیر تھا نہ کوئی میرا مرید۔سو اب مجھے لاکھوں آدمی کی قوم ملی ہے۔بعد میں اس کا خط مجھے آیا کہ یہ خط کسی اور نے لکھاتھا اور وہ اب ہمارا مرید بھی ہوگیا ہے اور اس نے حضرت صاحب کے ہاتھ پر بھی بیعت کی تھی۔(۶)ایک شخص کو تجارت کے لیے روپیہ دینے کا واقعہ ۴ ؍ اپریل ۱۹۱۲ء کو فرمایا کہ ایک شخص میرے پاس آیا اور بہت شاکی ہواکہ میں کیا روزگار کروں۔میں نے اس کو کہا کہ تجارت کرو اس نے کہا کہ وہ بھی روپیہ سے ہوسکتی ہے جو میرے پاس نہیں ہے۔میرے پاس ایک شخص کے ایک سو ساٹھ روپے امانت تھے جو اس نے اس غرض کے واسطے دیئے تھے کہ اس کی طرف تجارت کے واسطے کہیں صرف کروں۔میں نے وہی اس کو دے دیئے۔کچھ عرصہ کے بعد مجھے اس کے شہر میں جانے کا اتفاق ہوا۔میں نے اس کی بیوی سے پوچھا کہ وہ کہاں ہے اور اب کیا حال ہے۔اس نے کہا کہ کہیں سے