ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 41 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 41

گے۔تُرْجَعُوْنَ اور (البقرۃ : ۱۵۷) سے ظاہر ہے کہ اللہ کے پاس زندہ بجسدہ العنصری موجود نہیں بلکہ جس طرح اور ابرار مر کر جاتے ہیں اسی طرح وہ بھی چلاگیا۔سیدنا محمدؐ خاتم النبیین ہیں مشرق میں ایرانیوں کا اثر تھا اور مغرب میں عبرانیوں کا۔تمام یورپ،امریکہ ، افریقہ کے کناروں اور جزائرپر بائبل کا اثر اور ایران اور اس کے قرب وجوار و ہندوستان میں ایرانیوں کی کتابوں کا اثر تھا۔ہاں عرب پر کسی کا اثر نہ تھا۔ان میں بت پرستی تھی اور مکہ ان کا مرکز تھا۔ہمارے نبی کریم ﷺ نے سب سے پہلے وہ مرکز فتح کیا جس پر کوئی مغرب یا مشرق کا بادشاہ کامیاب نہیںہوا۔حضرت ابوبکر ؓ کے زمانے میں پہلا حملہ ایران کی طرف ہوا اور ان پر اسلامی تسلط ہوا اور ادھر شام کے ملک کو فتح کرنے کی توفیق حضرت عمرؓ کو ملی۔اس طرح پر تمام دنیا میں حجت قائم ہوگئی کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہیں کیونکہ جب تینوں مشہور مذہبوں کے مرکز ہماری سرکار نے فتح کر لئے تو اب کسی ہادی کے لئے کو ن سا عظیم الشان کام باقی رہ گیا جس کو کرنے کے لئے اس کا مبعوث ہونا ضروری تھا اور اب بھی باوجودیکہ اسلام کی حالت نازک ہے اس خصوص میں اسلام کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا کہ اس کے مذہب کا مرکز اس کے اپنے قبضے میں ہو بلکہ دوسری قوموں کے مذہبی مرکز بھی اسلام ہی کے قبضے میں ہیں اور یہ بے نظیر فتح ہے اور لازوال نشان ہے۔ایک تویہ ختم نبوت کی دلیل ہے۔دوم۔ایک دعویٰ ہوتا ہے ایک دلیل اگلی کتابوں میں دعوے تو بے شک بہت ہیں مگر دلائل کم۔قرآن مجید نے دونوں کام کئے دعاوی اور دعاوی کے ساتھ دلائل بھی ایسے پُرزور کہ انہیں کوئی دنیاوی طاقت باطل نہیں کرسکتی۔مثلاً بت پرستی سے منع فرمایا اور بہت سی دلیلوں میں سے ایک دلیل یہ بھی دی  (الاعراف : ۱۴۱) یعنی انسان غور کرے تو دنیا کی تمام چیزیں اسی کی خدمت میں لگی ہوئی ہیں۔پس جو چیزیں مخدوم ہونے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتیں وہ معبود کس طرح ہوسکتی ہیں۔یہ بھی ختم نبوت کی ایک دلیل ہے کہ جو دعویٰ کیا ہے اس کی دلیل بھی دی ہے اور یہ بات اور کسی الہامی کتاب میں نہیں اور آئندہ ان سے بڑھ کر اور کیا کوئی دلیلیں دے گا۔