ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 40
ممیرے کا سرمہ اصلی ممیرہ اور ممیرے کے سرمہ کا اعلان عرصہ سے شائع ہورہا ہے اس اثنا میں بہت سے لوگوں نے فائدہ اٹھایا ہے۔یہ سرمہ حضرت خلیفۃ المسیح مولوی حکیم نور الدین صاحب مدظلہ کا بتایا ہوا ہے۔آپ نے اس سرمہ کے متعلق فرمایا کہ ’’برائے امراضِ چشم بسیار مفید است‘‘ (البدر جلد ۱۱ نمبر۲۶،۲۷ مورخہ ۱۱ ؍اپریل ۱۹۱۲ء صفحہ ۱۲) معارف قرآن مجید سورہ زخرف کو اگر غور سے مطالعہ کیا جاوے تو صاف کھل جاتا ہے کہ انہٗ کی ضمیر قرآن مجید کی طرف راجع ہے چنانچہ شروع سورہ میں ہے (الزخرف : ۴، ۵)۔یہ اِنَّہٗ قرآن مجید ہے پھر اس سے آگے اسی سورۃ میں دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے۔ ( الزخرف : ۴۵) یہاں بھی اِنَّہٗ قرآن مجید ہے۔آگے چل کر تیسرے مقام پر فرمایا(الزخرف : ۶۲) یہاں کیوں قرآن مجید مراد نہ ہو۔اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید میںانسان کے تنزل و ترقی کی گھڑیوں کا علم ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ قومیں کیوں کر بنتی اور بگڑتی ہیں۔پس تو اے قرآن پڑھنے والے! ان میں شک نہ کرو کیونکہ یہ بہت ہی قطعی اور صحیح اور سچی باتیں ہیں۔اگر یہ ضمیر عیسیٰ ؑکی طرف پھیری جائے تو یہ خرابی پڑتی ہے کہ علم صفت ہے اور مبتدا کی خبر صفت نہیں ہوسکتی۔پھر اس کا بھی (الزخرف : ۸۶) سے فیصلہ ہوگیا کہ عیسیٰ علیہ السلام عِلْمٌ لِلسَّاعَۃِ اور وہ عِلْمُ السَّاعَۃِ خدا کے پاس ہے۔اور تم بھی اے مخاطبو! اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے۔