ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 39 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 39

نے تنگ آکر وہ مثل وہاں نظر ثانی کے واسطے مولوی صاحب کے پاس بھیجی تو مولوی صاحب نے پھر بھی اپنا ہی فیصلہ بحال رکھا اور نواب صاحب کے منشاء کی پروا نہ کی۔ذریعہ تحریکات فرمایا۔مسلمانوں میں ایک بات ترقی کرنے کی ہے کہ مکہ معظمہ میں ہرسال دنیا کے سب حصوں کے مسلمان اکٹھے ہوتے ہیں۔اگر وہاں کوئی تحریکیں کرتا رہے تو ان کے دن بدل سکتے ہیں۔قومیت فرمایا۔دراصل مسلمانوں میں قومیت کی روح نہیں رہی۔میں نے کسی کتاب میں پڑھا ہے کہ ایک چھوٹی سی نالی سے فرانسیسی لڑکے کود رہے تھے۔مدرسہ کے لڑکے سب کودنے لگے۔ایک لڑکا انگریز تھا اس کو ہرنیا کی بیماری تھی جس کے سبب اس کے خصیوں میں سے انتڑیاں نکل جاتی تھیں۔ایک نے اس کو منع کیا کہ تم چھال نہ مارو۔اس نے کہا کہ میں کیوں فرانسیسی قوم سے پیچھے رہوں۔غرضیکہ اس نے چھال ماری اور مرگیا۔اس کی وجہ کیا ہے اس میں قومیت کی روح تھی۔محکمات فرمایا۔مومن کو چاہئے کہ جب قرآن اور حدیث پڑھنے لگے تو محکمات اور متشابہات کا خیال رکھے۔اگر قرآن سے کسی بات کا پتہ لگے تو اس کو مان لے۔اگر نہیں لگتا تو اس کو محکم سے حل کرے۔پھر اللہ سے دعائیں کرے وہ راہ اور حقیقت کھول دے گا۔قرآن شریف کو پڑھتے ہوئے اور قصے کہانیوں کا خیال دل سے دور کرلینا چاہیے۔بعض لوگوں کی یہ عادت ہے کہ جب متشابہ آیت پڑھتے ہیں تو محکم کا نام نہیں لیتے۔دیگر مذاہب پر قرآن کا احسان فرمایا۔میں نے دنیا میں جس قدر مذہب دیکھے ہیں وہ دوسرے مذہب کی تعریف نہیں کرتے۔قرآن کا ہر مذہب پر احسان ہے۔مشرک پراحسان ہے کہ   (الانعام:۱۰۹)یعنی کسی بت کو گالیاں نہ دیا کرو۔عیسائیوں پر یہ احسان ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش پر جو الزام تھا وہ دور کیا۔اگر عیسائیوں کو خدا کا خوف ہوتا تو وہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں دھو دھو کر پیتے۔(البدر جلد۱۱ نمبر۲۶و۲۷ مؤرخہ ۱۱؍ اپریل ۱۹۱۲ء صفحہ ۲تا۵)