ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 3 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 3

دو عجیب خط فرمایا۔دو خط میں نے عجیب دیکھے ہیں۔ایک ہلاکو خاں کا اور ایک چنگیز خاں کا۔خط جو اس نے شاہ خوارزم کو لکھا تھا جو مسلمان کہلاتا تھا۔قرآن مجید کی ایک آیت   (الانعام :۱۳۰) کو تم ہمیشہ مدنظر رکھو۔جب انسان بداعمالی اور نافرمانی کرتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اس پر ایسے حاکم بھیج دیتا ہے۔بعض لوگ شکایت کیا کرتے ہیں کہ مجھے اپنے افسر سے دکھ پہنچا، وہ استغفار کریں اور اپنی حالت کی خود اصلاح کریں۔اگر وہ خود متقی اور خداترس ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں کسی سخت گیر افسر کے ماتحت نہیں رکھے گا بلکہ اگر وہ شخص فطرتاً سخت گیر بھی ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی فطرت میں تبدیلی کردے گا۔میں اسی کو مفید سمجھتا ہوں۔تم نہ مقامی حکام کی کبھی شکایت کرو نہ کسی اور کی۔اپنی اصلاح کرو یہی بہترین طریق ہے۔غرض وہ دو خط عجیب ہیں۔یہاں ایک کتاب ہے جس میں درج ہیں۔ہلاکو خاں اور اس کی اولاد نے جو خط مکہ معظمہ لکھا اس میں ایک فقرہ ہے نَحْنُ قَوْمٌ خُلِقْنَا مِنْ غَضْبِ اللّٰہِ یعنی ہم ایک ایسی قوم ہیں کہ ہم اللہ کے غضب سے پیدا ہوئے ہیں۔رحم کو نہیں جانتے۔میں یقین رکھتا ہوں جب ایک قوم کی حالت خراب ہوگئی اور خدا تعالیٰ کے حضور اس پر سزا کا فتویٰ جاری ہوگیا تو ہلاکو خاں کو اس پر مامور کردیا۔چنگیزخاں نے شاہ خوارزم کو لکھا کہ حدیث میں آیا ہے اُتْرُکُوْا تُرْکَ۔مغول سے جنگ نہ کرو۔پھر قرآن مجید میں ارشاد الٰہی یوں ہے    (البقرۃ:۱۹۱) جو تم سے جنگ کریں تم ان کا مقابلہ کرو۔ہم نے کسی ملک پر چڑھائی نہیں کی پھر تم نے ہمارے تاجروں کو مار ڈالا اور لوٹ لیا یہ معاملہ قرآن اور حدیث کے خلاف ہوا۔اگر کسی احمق نے کیا ہے تو آپ ان سے روپیہ لے کر ہمارے تاجروں کے ورثاء کو بھیج دو اور اپنے قانون کے موافق ان کو سزا دے دو مگر وہاں کون سنتا تھا۔چنگیزخاں نے سمجھا تھا کہ بڑا نرم جواب دیں گے مگر وہاں الٹا اثر ہوا۔انہوں نے ان وکلاء کو جو خط لے کر گئے تھے ان کو بھی پکڑ لیا۔چنگیز خاں نے پھر لکھا کہ ان کا کوئی قصور نہیں انہیں چھوڑ دو۔