ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 398 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 398

ب حضرت کی وفات کے بعد اس کاغذ کو پڑھا گیا تو اس میں حضور نے یہ تحریر فرمایا تھا کہ (۱) پانچ وقت نماز کی پابندی رہے۔(۲) شرک سے نفرت تامہ ہو۔(۳) جھوٹ، چوری، بدنظری، حرص و بخل، عدم استقلال، بزدلی، بے وجہ مخلوق کا خوف تم میںنہ ہو بلکہ اس کی جگہ پابندی نماز، وحدت الٰہیہ، صداقت، عفت، غض بصر، ہمت بلند، شجاعت، استقلال میں اللہ کے فضل سے ترقی ہو۔آمین اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس زرّیں نصیحت پر چلنے کی توفیق عطا فرماوے۔(اخبارنور جلد۵مورخہ ۱۰؍اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۶) ایک شہادت ایک قابل اشاعت بات عرض کرتا ہوں اگر آپ اس کو اخبار میں درج کردیں تو ممنون ہوں گا۔حضرت خلیفۃ المسیح مرحوم و مغفور (خدا کی ہزار ہزار رحمتیں ان پر اور ان کی آل پر) اپنے معمول کے مطابق بعد از درس صبح حضرت صاحبزادہ بشیر احمد مریضوں کو دیکھ رہے تھے جب ان سے کچھ فراغت ہوئی تو شیخ رحمت اللہ اور ڈاکٹر یعقوب بیگ اور اغلباً ڈاکٹر محمد حسین بھی حاضر خدمت ہوئے۔بعد از سلام و آداب یہ لوگ بیٹھ گئے۔دوران گفتگو میں حضور مغفور نے فرمایا۔خواجہ صاحب تحریر کرتے ہیں کہ میر ناصر آپ کی خلافت کو کمزور کرنے اور میاں صاحب کی خلافت جمانے کے لئے چندہ جمع کرنے کے بہانہ سے لوگوں کو ورغلاتے ہیں۔فرمایا۔میں نے جواب لکھا ہے کہ میر صاحب تو ایک دہن کے آدمی ہیں ان کو ایسی باتوں سے تعلق نہیں۔دارالضعفاء کا جوش آیا تو آخر دیکھ لو بنا ہی دیا؟ تم ایک ضروری کام کے لئے وہاں گئے ہو ان باتوں کا خیال چھوڑ دو۔پھر آپ نے فرمایا کہ میں نے خواجہ صاحب کو لکھا ہے کہ میری خلافت میں تم نے جمہوریت کے واسطے شور مچایا تھا مگر یقینا جانو اسلام کو جمہوریت موافق نہیں۔ٹرکی نے جمہوریت سے کیا پھل پایا۔