ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 397 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 397

کہتے ہیں انجمن اس لئے ہے کہ سلسلہ احمدیہ کے مال کی محافظت کرے۔مگر جب خلیفہ صاحب نہ ہوں گے تو مربیوں کا سلسلہ کیا۔چار پانچ بوٹیاں فتو باغبان۔یہ کہنا کہ الوصیت میں خلیفہ کا ذکر نہیں غلط ہے۔سلسلہ احمدیہ کے معنے ہی یہ ہیں کہ ایک لڑی ہے۔تم اس کو موقوف کرنا چاہتے ہو ایسا نہ کرو۔تم نے یہ معنے کئے ہیں کہ خلیفہ لغو ہے صدر انجمن لغو ہے۔خلیفہ کون ہے صدر انجمن کون ہے یہ غلطی تمہارے لئے نفع کا موجب ہو سکتی ہے۔اگر میرا کہنا مانوتو ایک صلاح دیتا ہوں ساری دنیا میں ایک ہی خلیفہ ہو ساری دنیا کی انجمنیں صدر انجمن کے ماتحت ہوں۔مخدوم کے قواعد مخدوم آپ جانے۔اگر شریر بدنفس گُنڈہ ہوگا تو کیا خدا ہلاک کرنے کو کافی نہیں۔ادھر ایسا امکان ہو سکتاہے کہ کوئی خلیفہ پاک نہ ہو تو کیا صدر انجمن کے ممبروں نے ٹھیکہ لیا ہوا ہے۔… دونوں طرف ہی خیر مناؤ۔کہا گیا ہے کہ یہ کسی نے روپیہ کے لئے ایسا کیا اس سے توبہ کرو۔میں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ یہ غلط ہے۔شیعہ اور خارجی موجود ہیںخارجی اور رافضی نمونہ نہ بنو۔حضرت صاحب کا الہام ہے اِنِّیْ مَعَکَ وَمَعَ اَہْلِکَ۔اس الہام کے نیچے اولاد کو دیکھتے ہیں تو وہ جان قربان کرنے کو تیار ہیں۔تم سے بڑھ کر بیوی صاحب حضرت صاحب سے منوا لیتی تھی مگر میرے سامنے اپنے آپ کو لونڈی کے برابر سمجھتی ہے خدا تو کہتا ہے اِنِّیْ مَعَکَ وَمَعَ اَہْلِکَاور میرے لئے مال وجان سے تو قربان ہونے کو طیار ہیں۔تم میں سے ایسے آدمی شائد بہت ہی کم ہوں جنہوں نے لباس کو استثناء کر کے کہا ہو کہ یہ روپیہ تیری ذات کے لئے ہے اور مجھے روپیہ دیا ہو۔تم میں سے ایک بھی نہیں جس نے اتنا روپیہ دیا ہو۔بیعت ایک معیار تھا۔تمہارا سچ جھوٹ، دغا ،فریب، اقرار، عدم اقرار ان امور کی بیعت تصریح کرتی ہے۔بڑی ہی پیاری روح یہ ہے محمود، پھر ان کی ماں ہے۔یہ اقتباس اس تقریر کا ہے جو ضرورتاً پوری بھی دی جائے گی۔(الفضل جلد ۱نمبر۴۳ مورخہ ۴؍اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۳) اپنی بیوی کو وصیت وفات کے ایک دو روز پہلے حضرت خلیفۃ المسیح مولوی نورالدین صاحب نے اپنی بیوی کو ایک کاغذ پر کچھ لکھ کر دیا اور فرمایا کہ اسے پھر پڑھنا یہ دین ودنیا کے خزائن کی چابی ہے۔