ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 354 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 354

مولوی ابو الق<mark>اس</mark>م صاحب فرمایا۔میں نے ابوالق<mark>اس</mark>م نانوتوی صاحب کو دیکھا ہے بڑے تیز آدمی تھے، فلسفیانہ طبع تھے، ہر سوال کا جواب فوراً دیتے تھے۔دیانند ان کے مقابلہ میں آنے سے ڈرتا تھا ایک دفعہ حدیث پڑھا رہے تھے ایک حدیث میں آیا کہ آخری زمانہ میں مال کم ہوگا <mark>اس</mark> کے بعد ایک اور حدیث آئی کہ کسی جگہ سونا نکلے گا۔میں نے چاہا کہ سوال کروں ابھی میں نے اتنا ہی کہا تھا کہ ’’حضور پہلی‘‘ تو فوراً سمجھ گئے اور جھٹ جواب دیا کہ میاں کیا تم نے چراغ بجھتا ہوا نہیں دیکھا۔میں بھی جواب سمجھ گیا اور خاموش ہوگیا۔مطلب یہ تھا کہ بجھتے بجھتے چراغ کی روشنی یک دفعہ آخر میں اٹھتی ہے یہ آخری جوش تھا۔فرمایا۔ان کی دوکتابیں بہت عمدہ ہیں مگر عبارت عام فہم نہیں۔ایک تقریر دلپذیر دوسری قبلہ نما۔ظاہر کا اثر باطن پر پڑے گا فرمایا۔ایک شخص نے ہمیں خط لکھا ہے کہ ہندو جو مسلمانوں کے ساتھ عداوت و کینہ رکھتے تھے اب بظاہر انہوں نے وہ عداوت چھوڑ دی ہے مل بیٹھتے ہیں اور کسی ُبغض کا اظہار نہیں کرتے لیکن افسوس ہے کہ ان کے دل پہلے سے بھی زیادہ کینوں سے بھرے ہوئے ہیں اور اندر ہی اندر بہت دشمنی دل میں رکھتے ہیں۔میں نے <mark>اس</mark> خط کو پڑھ کر بہت توجہ کی اور بالآخر مجھے یہی <mark>معلوم</mark> ہوا کہ یہ ظاہری محبت باطن پر بھی اثر کرے گی اور اندر کے کینے اور بغض بھی رفتہ رفتہ نکل جائیں گے۔پس یہ خوشی کی بات ہے نہ کہ غم کی۔باپ یا بیعت، مقدم کیا ہے؟ ملک اڑیسہ کے ایک نوجوان کا خط حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت میں پیش ہوا کہ میں مسیح موعود پر ایمان رکھتا ہوں لیکن اگر بیعت کا ارادہ ظاہر کرتا ہوں تو میرا باپ رونا دھونا شروع کردیتا ہے۔فرمایا۔<mark>اس</mark> کو کہا جائے کہ اگر تم <mark>اس</mark> کو <mark>اس</mark>لام سمجھتے ہو کہ مسیح موعود کو قبول کرو اور بیعت میں داخل ہو تو پھر باپ کو کرنے دو جو <mark>اس</mark> کا جی چاہے۔باپ کو راضی رکھنے کی خاطر <mark>اس</mark>لام کو ترک نہیں کیا ج<mark>اس</mark>کتا۔(ماخوذ از کلام امیر۔البدر جلد۱۴ نمبر۱۲ مؤرخہ۲؍ اکتوبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۱)